تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
25 جولائی 2012
وقت اشاعت: 16:46

بلوچستان کیس:پولیس، ایف سی،چیف سیکریٹری سے مشترکا بیان طلب

جیو نیوز - اسلام آباد…سپریم کورٹ نے بلوچستان کے امن وا مان حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ، پولیس اور ایف سی کا مشترکا جواب طلب کرلیا ہے، ججز نے کہاہے کہ صرف آئین کا نفاذ ہونا چاہیے، بلدیاتی انتخابات ہوجائیں تو مسئلہ بڑی حد حل ہوسکتا ہے، بلوچستان کی قیادت کے ساتھ بٹھا کر کھل کر بات کی جانی چاہیے ۔چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی مین تین رکنی بنچ نے بلوچستان میں بدامنی کیس کی سماعت کی، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کا کہنا تھاکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ صوبہ میں حالات بہتر نہیں، لیکن یہ لکھ کر نہیں دے سکتے ہیں کہ ہم ناکام ہوگئے، صوبہ کے 65 لاکھ افراد میں سے یہ صرف 2 سو افراد کا مسئلہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کے ساتھ مذاق ہوگیا ہے،کہتے ہیں کہ خدا کے واسطے لوگوں کی جان کی حفاظت کرو، سنی ہو، شیعہ ہو، بریلوی ہو کوئی محفوظ نہیں، فورسز تمام لگی ہیں لیکن پکڑا کوئی نہیں جاتا، جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ امن و امان گراف ابتر ہورہا ہے،صوبائی حکومت امن وامان نہ کرسکے تو وفاق کی کیا ذمہ داری ہے، جب بات ہاتھ سے نکل گئی تو کیا تب اقدام کریں گے، وقت آگیاہے کہ ملک کو بچانے کیلئے ہرشہری کو کھڑا ہونا ہوگا،مسلح افواج بہت محب وطن ہیں، ہر شہری کو اب حصہ ڈالنا ہے،صرف 17 ججز نے سب کچھ نہیں کرنا، صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد نے کہاکہ بلوچستان کا معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے،اصل مسئلہ پر کوئی بات نہی کرتا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ لاپتا افراد کیلئے صوبائی حکومت کو تین ماہ کا وقت دیا جائے،مسئلہ کو حل کرنے کی خاطر اعلیٰ ترین شخصیات کی سطح پر بات ہوئی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ سب کیلئے واضح پیغام ہے کہ بلوچستان کا خیال کریں، عدالت نے پولیس، ایف سی کے سربراہان اور چیف سیکریٹری سے مشترکا تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔ا

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.