طبی ماہرین کے مطابق چینی طریقہ علاج ”آکوپنکچرتھراپی“ سے دانت نکلوانے کی تکلیف اوراس عمل کے خوف پرقابوپایا جاسکتا ہے? صرف 5منٹ کی اس تھراپی سے دانت درد کے مریض کا خوف دورکیا جاسکتا ہے? آکوپنکچرتھراپی کے بعد دانتوں کا کامیابی کے ساتھ علاج کیا جاچکا ہے?ماہرین کے مطابق ہر3میں سے ایک مریض ڈینٹل سرجن کے آلات کودیکھ کرخوفزدہ ہوجاتا ہے اور20میں سے ایک مریض توشدید نوعیت کی ذہنی لاچارگی میں مبتلا ہوجاتا ہے? ماہرین نے 16خواتین اور4مردوں کوآکوپنکچرتھراپی کے بعد ڈینٹل سرجری کے لئے تیارکیا جس کے بعد ان کا خوف مکمل طور پر دور ہوگیا ? آکوپنکچرسے ایک ہی مرحلہ میں سرکے دوخاص حصوں کوٹارگٹ کرکے ان مریضوں کی تشویش کودورکیاگیا?ان تمام 20مریضوں کے خوف کودورکرکے دانتوں کا علاج شروع کیا گیا?ویسٹرن پارک ہسپتال شیفیلڈ میں ہونے والے ان تجربات سے متعلق کہا گیا ہے کہ ڈینٹل سرجری مہنگی ہوتی ہے مگرآکوپنکچراس سے کہیں سادہ اور سستانسخہ ہے?
Posted on Feb 25, 2011
یورپی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی ایٹم شکن تنصیب LHC میں تیز رفتار پروٹانوں کے ٹکراؤ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جس سے تقریباً وہی حالات پیدا ہو گئے جو کائنات کی ابتدا یعنی Big Bang کے وقت تھے?
یورپ کی ایٹمی ریسرچ کے ادارے CERN نے منگل کے روز اس کوشش کو بہت بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سائنس میں نئے عہد کا آغاز ہو گیا ہے?
CERN کے حکام نے کہا کہ منگل ہی کے روز دو کوششیں ناکام رہیں?
یہ تنصیب سوئٹزلینڈ اور فرانس کی سرحد پر جنیوا شہر کے قریب زیرِ زمین سرنگ میں واقع ہے?
CERN کی دس ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والی اس تنصیب کو فنی خرابیوں کی وجہ سے ایک سال سے عرصے تک بند رکھنا پڑا تھا? ستمبر 2008ء میں اس کے افتتاح کے صرف نو دن بعد میں اس میں خرابی پیدا ہو گئی تھی?
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جب LHC پوری رفتار سے کام شروع کر دے گا تو وہ اس کے اندر تقریباً روشنی کی رفتار سے ایٹمی ذرات کو آپس میں ٹکرا سکیں گے? سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس طرح انہیں کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ ہٹانے میں مدد ملے گی?
Posted on Feb 25, 2011

د ہی د نیا کے اکثر خطوں میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے? یہ حقیقت ہے کہ دہی دودھ سے بھی زیادہ مفید ہے، چونکہ دہی میں عفونت کو روکنے والے جراثیم پائے جاتے ہیں? اس لیے یہ غذا کو تعفن اور سمیت سے بچاتا ہے یہی وجہ ہے
کہ اسے بہترین غذا تسلیم کیا گیا ہے? یورپ کے ایک سرکردہ ڈاکٹر پروفیسر میکنی کاف نے بلغاریہ کے دورہ کے دوران بلغاری لوگوں کی جسمانی قوت اور درازی عمر کا سبب دریافت کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہاں کے باشندے دہی بکثرت سے استعمال کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے دہی کے متعلق تحقیقات و تجربات کا ماحصل درج ذیل ہے? دودھ میں مختلف قسم کے جراثیم پائے جاتے ہیں ان میں سے بعض تو دودھ کے روغنی اجزاءکو علیحدہ کرتے ہیں بعض اجزاءجنبیہ کو فاسد کرتے ہیں اور بعص اجزائے شکریہ پر عمل کر کے اسے ترشی میں بدل دیتے ہیں? اس ترشی پیدا کرنے والے جراثیم میں سے بعض تو سرکہ پیدا کرتے ہیں اور بعض ایسڈ اور لیکٹک ایسڈ پیدا کرتے ہیں جب ان کے اثر سے دودھ میں ترشی کی خاص مقدار پیدا ہو جاتی ہے تو دودھ کے اجزاءسے جنبیہ جم جاتے ہیں، جسے دودھ جمنا یا پھٹنا کہتے ہیں یہ جراثیم دودھ کے شکری اجزاءپر عمل کر کے اسے لیکٹک ایسڈ میں تبدیل کر دیتے ہیں? دہی کے دودھ سے زیادہ مفید ہونے کی یہی وجہ ہے کہ دودھ میں جو خاص قسم کی عفونت کو روکنے کے والے جراثیم ہوتے ہیں ترشی پیدا ہونے سے ان کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے، یہ جراثیم بدبو پیدا کرنے والے جراثیم کو ہلاک کر دیتے ہیں? ترشی پیدا کرنے والے جراثیم کے باعث دہی موذی جراثیم سے قطعاً پاک و صاف ہوتا ہے? اگر پانی وغیرہ کے ساتھ دوسرے جراثیم اس میں مل جائیں تو وہ ترشی کے اثر سے ہلاک ہو جاتے ہیں? دہی میں ایسے جراثیم ہیں جن کی طبعی خاصیت یہ ہے کہ پیٹ میں جاتے ہی امراض پیدا کرنے والے جراثیم سے جنگ کر کے ان کو مغلوب کر لیتے ہیں? معدے میں جا کر دہی کے یہ جرائم غذا کے نشاستی اور شکریہ اجزاءکو ترشی میں تبدیل کر کے معدے اور آنتوں کو مضر جراثیم سے محفوظ رکھتے ہیں? تعفن اور خمیر سے پیدا ہونے والے امراض اور بد ہضمی و اسہال وغیرہ میں دہی اسی وجہ سے فائدہ بخش ہے? ڈاکٹر کے نزدیک زندگی کیلئے غذا میں تین اجزاءکا ہونا ضروری ہے?
(1) مادہ ہائے ایزوٹ جو جسم کو بنانے اور اس کی اصلاح میں کام آتے ہیں?
(2) کوئلہ کے اجزاءجو بدن میں حرارت پیدا کرتے ہیں اور اسے برقرار رکھتے ہیں?
(3) پانی اور معدنی اجزاءجو بدن کی ترکیب میں بے شمار کیمیائی تبدیلیوں کا ذریعہ ہیں اور بقائے زندگی کیلئے ضروری ہے? دودھ میں یہ تینوں اجزاءموجود ہوتے ہیں لیکن دہی میں دودھ سے بھی زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں? اسی لیے دہی، دودھ سے زیادہ مفید ہے، دہی کے استعمال سے نہ صرف تدرستی قائم رہتی ہے بلکہ بے شمار امراض سے نجات ملتی ہے اور عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے? دہی دل و دماغ اور انتڑیوں کو قوت بخشتا ہے، بادی کو دور کرتا ہے، دہی میں شکر ملا کر پیناز کام کے لئے مفید ہے گائے کا دہی قوت بخش ہونے کے باوجو نہایت زود ہضم ہے? تپ دق، پرانی کھانسی، دمہ اور بواسیر میں بے حد مفید ہے، پیچش اور سنگرہنی کو دور کرتا ہے? دہی عام جسمانی کمزوری اور خون کو کمی میں نہایت مفید ہے? جن لوگوں کو دودھ ہضم نہ ہوتا ہو، دہی ان کیلئے نہایت مفید ہے اور بآسانی ہضم ہو جاتا ہے? اس کے علاوہ دہی میں دودھ کی نسبت دگنی غذائیت ہوتی ہے? بچوں کے اسہال، سل، ضعف اعصاب، کمی خون اور آنتوں کے امراض میں دہی غذا ہے اور دوا کی دوا? اس سے جسم پرورش پاتا ہے? کمزوری اور ضعف کی شکایت رفع ہوتی ہے? معدے اور آنتوں کا ورم تحلیل ہو جاتا ہے اور وزن میں اضافہ ہوتا ہے? دہی جمانے میں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ خالص دودھ سے صاف و پاکیزہ برتن میں جمایا گیا ہو? دودھ والا جانور تندرست ہونا چاہیے اور جس برتن میں دودھ دوہا گیا ہو، وہ بھی پاک و صاف ہو? زیادہ ترش دہی بھی مفید نہیں ہوتا? کیونکہ اس میں جو مکھن موجود ہوتا اس کی ترکیب میں خرابی پیدا اور غذاءکی صلاحیت زائل ہو جاتی ہے اس کے علاوہ ترش دہی خون میں جوش پیدا کرتا اور اس کے استعمال سے کھانسی اور زکام ہو جاتا ہے لیکن دہی میں شکر ڈال کر پینا گرمی کے زکام میں مفید ہے?
Posted on Feb 25, 2011
امریکی طبی و نفسیاتی ماہرین نے دماغ کے سکون کی حالت میں یادداشت کو بہتر بنانے والے عوامل کا پتہ چلانے کا دعوی کیا ہے? لاس اینجلس میں کیڈارس سینائی میڈیکل سینٹر کے ماہر نیورو سرجن ایڈم حملیک نے بتایا کہ کئی ماہ کی تحقیق اور مطالعاتی جائزہ سے پتہ چلا کہ تھیٹا نامی لہریں انسان کے سکون اور آرام دہ حالت میں ہونے کی صورت میں یادداشت میں بہتری کیلئے متعلقہ نیورانز (اعصاب) کے ساتھ اچھی طرح مربوط ہو کر کام کرتے ہیں? تحقیق کی اس دریافت سے سائنس دان مستقبل میں یادداشت کو بہتر بنانے کیلئے علاج کر سکیں گے اور ایسے افراد جن کو نئے نئے علوم اور فنون سیکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں مستقبل میں نیورانز کو سکون دہ حالت میں فعال کرنے کی تھراپی سے مستفید ہو سکیں گے?
Posted on Feb 25, 2011

صبح سویرے نیند سے بیدار ہوتے ہی پانی پینے کا عمل دیرینہ اور پیچیدہ امراض کے علاوہ جدید بیماریوں کا موثر علاج ثابت ہوا ہے? وائس آف جرمنی کے مطابق جاپان کی میڈیکل سوسائٹی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاپانی معاشرہ قدیم روایات پر قائم ہے? یہاں نیند سے جاگنے کے ساتھ ہی صبح نہار منہ پانی پینے کا رواج عام ہے? سائنسی تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ نہارمنہ پانی پینا انتہائی فائدہ مند ہے? صبح سویرے نیند سے بیدار ہوتے ہی پانی پینے کا عمل دیرینہ اور پیچیدہ امراض کے علاوہ جدید بیماریوں کا موثر علاج ثابت ہوا ہے? میڈیکل سوسائٹی کے زیراہتمام ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پانی کے ذریعے چند بیماریوں کا 100 فیصد کامیاب علاج ممکن ہے- مثلاً سر اور جسم کا درد، قلب کے نظام میں پایا جانے والا نقص، آرتھرائٹس، ہارٹ بیٹ یا دل کی دھڑکن کی غیر معمولی تیزی، مرگی، موٹاپے کے سبب جنم لینے والی بیماریاں، برونکائٹس ایستھما یا دمہ، ٹی بی، گردن توڑ بخار یا پردہ دماغ کا ورم، گردے کی خرابی، میدے کی بیماریاں، ذیابیطس، قبض، امراض چشم، آنکھ، ناک اور کان کی بیماریاں اور شکم مادر یا رحم کے سرطان اور دیگر زنانہ امراض سے بچنے کے لئے خالی پیٹ پانی پینا 100 فیصد مفید ثابت ہوتا ہے?ماہرین کے مطابق صبح سویرے اٹھتے ہی دانت صاف کرنے سے پہلے 4 گلاس پانی پینا چاہئے،کسی بیماری میں مبتلا یا معمر افراد اگر اکھٹا 4 گلاس پانی نہ پی سکیں توکم از کم 1 گلاس پانی پئیں اور اس کی مقدار آہستہ آہستہ بڑھاتے ہوئے اسے 4 گلاس تک لے جانے کی کوشش کریں-اس کے بعد دانت صاف کرنا چاہئے تاہم 45 منٹ بعد تک کھانے اور پینے سے پرہیز کرنا مفید ہے? اس کے بعد نارمل ناشتہ کیا جاسکتا ہے ? ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد 2 گھنٹے تک کچھ اورکھانے یا پینے سے پرہیز کرنا ضروری ہے?ماہرین کے مطابق پانی کے ذریعے علاج کے اس طریقہ کار سے چند خاص بیماریوں کا علاج چند دنوں کے اندر ممکن ہے? جوڑوں کی سوزش کے شکار مریضوں کےلئے پانی سے علاج سے متعلق ہدایات کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ پہلے ہفتے میں تین دن اور دوسرے ہفتے سے ہر روز 4 گلاس پانی نہار منہ دانت برش کرنے سے پہلے پیئں اور اس کے بعد 45 منٹ تک کچھ کھانے پا پینے سے پرہیزکریں? چینی اور جاپانی ماہرین کی طرح بہت سے دیگر ممالک کے طبی محققین کا ماننا ہے کہ کھانے کے بعد گرم پانی یا سوپ پینا صحت کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے?
Posted on Feb 25, 2011
سماجی رابطہ