1 جون 2014
وقت اشاعت: 14:43
خیبرپختونخوامیں خسرہ سے ہلاکتیں، مرکز اورصوبائی حکومت میں الزامات کاسلسلہ
پشاور…خیبر پختونخوا میں خسرہ سے ہلاکتوں کے بعد ایک بار پھر مرکز اور صوبائی حکومت میں الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دونوں ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔خیبرپختونخوا اوروفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں پہلے پولیو کے معاملے پروفاقی حکومت صوبے کو اورصوبہ وفاق کو مورد الزام ٹھہراتے رہے ہیں۔ اب پولیوکی جگہ خسرے نے لے لی ہے۔ وفاق کا کہناہے کہ صوبے میں برسراقتدارعمران خان کوصوبے کے معاملات کا پتہ نہیں اورچلے ہیں پورے ملک کو ٹھیک کرنے۔تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے وزیرصحت شاہرام ترکئی نے وفاق کومشورہ دیا ہے کہ اگربچوں کی زندگی کے معاملے پروفاق میں اپنی ذمے داریاں پورا کرنے پر توجہ دے تو زیادہ بہترہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں حکومتوں کو بچوں کے معاملے پرسیاست سے گریزکرنا چاہئے تاکہ قوم کے مستقبل کولاحق خطرات سے بچایا جاسکے۔ حکومتوں کواس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ غیرملکی امدادی ادارے بھی ساری صورتحال کوسنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔