8 جون 2014
وقت اشاعت: 14:47
خیبرپختونخوا میں ’روبیلا‘ سے 5بچے متاثر
پشاور...خسرہ کی دہشت اورمشکل کیا کم تھی کہ اس کی جڑواں بیماری روبیلہ نے بھی بچوں پرنظریں گاڑھ لی ہیں اوراب تک خیبرپختونخوا میں اس بیماری سے متاثرہوکرپانچ بچے ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان میں آج کل بچوں کوخسرے کی بیماری سے بچائو کے ٹیکے لگ رہے ہیں اوراسی دوران اس بیماری سے ملتی جلتی یعنی ایک جیسے آثاررکھنے والی بیماری روبیلہ کا نام بھی منظرعام پرآیا ہے لیکن اس سے بچائو کی تدابیراس طرح نہیں کی جاتیں جیسے خسرہ سے بچائوکی ہوتی ہیں کیونکہ یہ ہے تومتعدی بیماری اورخیبرپختونخوا کے اضلاع کرک، نوشہرہ اور ملاکنڈمیں بچوں کومتاثرکرچکی ہے لیکن اس کے شکاربچوں کی تعداد کم ہونے کی بدولت ابھی اسے ان بیماریوں کی فہرست یعنی ای پی آئی پروگرام میں شامل نہیں کیا گیا، جن سے بچائوکے بچوں کوٹیکے لگائے جاتے اورویکسین دیے جاتے ہیں۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ اس بیماری کی علامات میں بچے کو بخارہونا، ناک زیادہ بہنا،سر درد ،چہرے اور گردن پر سرخ دھبے اور متواتر کھانسی شامل ہیں اور رواں سال خیبر پختونخوا میں روبیلہ کے 5کیسز رپورٹ کیے گئے۔ مالاکنڈ سے 2 کرک سے ایک اور نوشہرہ میں 2 بچے اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں۔