تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
9 نومبر 2014
وقت اشاعت: 21:49

بلوچستان میں پولیووائرس نے ایک بار پھرسراٹھالیا

کوئٹہ.......بلوچستان میں تقریباً سوا دو سال کے وقفے کے بعد پولیووائرس نے ایک بار پھرسراٹھالیا ہے،اس کی روک تھام کے لیےصوبے میں پیرسےانسداد پولیو کی خصوصی مہم شروع کی جارہی ہے تاہم اس حوالے سے کئی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ بلوچستان میں رواں سال کے آخری چند ماہ کے دوران پولیو کےاب تک دس کیسز سامنے آچکے ہیںجس کی وجہ سیوریج نالوں کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی ہے۔پولیوکیسزمیں اضافے سے عالمی سطح پرملک کی ساکھ بھی متاثرہو رہی ہے۔ پولیوکے مرض پرقابوپانے کےلیے پیردس نومبر سےکوئٹہ سمیت صوبے کے گیارہ اضلاع میں انسداد پولیوکی خصوصی مہم چلائی جارہی ہے، مہم کے دوران گیارہ لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچائوکی ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیاگیاہے،لیکن صوبے کے مختلف علاقوں میں اب بھی کچھ والدین اپنے بچوں کو پولیوسے بچائو کےقطرے پلانے سے انکاری ہیں۔مسائل کچھ بھی ہوں ، صوبائی حکام نے بلوچستان سے پولیو کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا ہے،اس حوالے سے انتظامی سطح پر مختلف اقدامات کےعلاوہ فوری طور پرایک ہزار سے زائد ہیلتھ ورکرزکومستقل کرنے کے احکامات جاری کرنے اور تقریباً پانچ ہزارورکرزکو پانچ ماہ کی تنخواہوں کی ادائیگی کے مطالبات کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرادی گئی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.