تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
24 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 1:28

سندھ ،کسی سرکاری اسپتال میںفالج کے علاج کا یونٹ موجود نہیں

کراچی......ملک کے مایہ ناز ذہنی امراض کے ماہرین نے کہا ہے کہ سندھ میں کسی سرکاری اسپتال میںفالج کے علاج کا یونٹ موجود نہیں ،جس کی وجہ یومیہ سینکڑوںمیں فالج کے مریض نہ صرف موت کے منہ میں جارہے ہیں بلکہ زندگی بھر کے لیے مفلوج بھی ہوجاتے ہیں،فالج کے حملے کا شکار ہونے والے مریضوں کی زندگی بچانے کےلئے حکومت کوٹیچنگ اور ضلعی اسپتالوں میں فالج یونٹ قائم کرنے چاہئیں ۔ پاکستان میں روزانہ400افراد فالج کے سببموت کا شکار ہورہے ہیں ،جن میں 250خواتین بھی شامل ہیں۔روزانہ ملک میں ایک ہزار افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں بشمول 550خواتین کے اور تقریباََ 600افراد زندگی بھر کے لیے اس مہلک بیماری سے مفلوج ہوجاتے ہیں ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نیورولوجی سوسائٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹرواسع محمد شاکر، پاکستان اسٹروک سوسائٹی کے سیکریٹری ڈاکٹر عبد المالک ، تین روزہ 14ویںانٹرنیشنل نیورولوجی اپ ڈیٹس اینڈ7ویں قومی اسٹروک کانفرنس کے سیکریٹری ڈاکٹرنادر علی سید اور ڈاکٹرنائلہ شہباز خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ بدقسمتی سے کراچی سمیت سندھ کے کسی سرکاری اسپتال میں فالج کے علاج کا یونٹ موجود نہیں یہ سہولت صرف دو نجی اسپتالوںمیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے تحت کراچی میں 19سے 21دسمبر تک تین روزہ عالمی نیورولوجی اپ ڈیٹس اینڈ قومی اسٹروک کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے ۔ کانفرنس کا پہلا اور آخری دن دماغ کی مختلف بیماریوں سے متعلق ہوگا جس میں سعودی عرب ، برطانیہ ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک سے دماغی بیماریوں کے ماہرین شریک ہوں گے ۔ دوسرے دن20دسمبر کو قومی فالج کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں ملک بھر سے فالج کی بیماری سے متعلق ماہرین شریک ہوں گے۔ تین روزہ کانفرنس میں لیکچرز ، سیمینار ، دماغ کی بیماریوں سے متعلق ہونے والی جدید تحقیق ، تحقیقی مقالوں کے علاوہ ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ فالج کا شکار ہونے والے افراد کو ابتدائی 24سے 40گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں اگر اس دوران مریض کو علاج کی بہتر سہولیات میسر آجائیں تو ہم فالج سے ہونے والی اموات کو 15فیصد تک لا سکتے ہیں ۔ لیکن بد قسمتی سے ملک کے کسی اسپتال میں بھی فالج یونٹ اور بحالی سینٹر موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان اموات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔انہو ںنے کہا کہ دنیا بھر میں 13فیصد اور پاکستان کے 10فیصدیعنی دو کروڑ سے زائد افراد دماغی اور اعصابی امراض کا شکار ہیں ۔یہ تعداد دل کی بیماریوں اور کینسر کے مرض سے زیادہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ فالج دل کی بیماریوں کے بعد دوسرے نمبر کی بیماری ہے جوسب سے زیادہ موت کی وجہ بن رہی ہے ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق 4سے 11فیصد اعصابی بیماریاں موت کی وجہ بن رہی ہیں جبکہ غریب اور متوسط ممالک میں یہ شرح 12فیصد تک ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں دماغی ا ور اعصابی امراض میں مبتلا افراد کو کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں روزانہ 18ملین افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے 6ملین روزانہ انتقال کر جاتے ہیں ،دنیا اورخصوصاً پاکستان میں معذور افراد میں سب سے زیادہ تعداد فالج سے متاثرہ افراد کی ہے۔ دنیا بھر میں ہر دس سیکنڈ میں ایک فرد اس مرض کا شکار ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں فالج کے 90فیصد کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ۔پاکستان میں ہر عمر کے افراد کو فالج کا حملہ ہوتا ہے ۔ پاکستان میں گزشتہ 18سالوں کے دوران خواتین میں فالج کی شرح 28فیصد سے بڑھ کر 45فیصد ہوگئی ہے ۔ پاکستان میں عورتوں کو فالج ہونے کا خدشہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے ، کیوں کہ پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک عورت کوفالج ہو جاتا ہے جبکہ مردوں میں یہ تعداد ہر 6میں سے ایک ہے ۔ زندگی میں روزانہ ورزش کا نہ ہونا ، نمک کا زیادہ استعمال اور زیابیطس ایسے عوامل ہیں جن سے ہر انسان کو فالج کا خطرہ ہوتا ہے ،مردوں میں سگریٹ نوشی اور گٹکافالج کا ایک بہت بڑا سبب ہے ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.