3 فروری 2015
وقت اشاعت: 18:16
تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے طب کے شعبے میں بھی آسانی
بیجنگ........... تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی نے طب کے شعبے میں بھی آسانی پیدا کردی۔ چین میں ڈاکٹروں نے اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے دل کے والو کو کم وقت میں تبدیل کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا۔ اب دل کے والو تبدیل کرنا ہوگیا آسان، سرجری کا وقت بھی کم اور مریض کو تکلیف بھی ہوتی ہے کم۔یہ کارنامہ سرانجام دیا گیا ہے چین میں، جہاں ایک معمر خاتون کے دل کے والو تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیل کیے گئے۔ ڈاکٹروں نے اس سرجری سےپہلے خاتون کے دل کے سی ٹی اسکین اور الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے کچھ تصویریں لیں، بعد میں ان سے تھری ڈی ماڈل پرنٹ کیا۔ اس کی مدد سے ڈاکٹروں کو خاتون کے دل کا سرجری سے پہلے ہی بھرپور معائنہ کرنے میں مدد ملی۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی ایجاد سے پہلے دل کے والو کی تبدیلی کے لیے پورے سینے کو چیرنا پڑتا تھا اور اس آپریشن میں تین سے چار گھنٹے لگتے تھے، تاہم اس تھری ڈی ٹیکنالوجی کے استعمال سے اب صرف متاثرہ جگہ کی نشاندہی کرکے والو کو باآسانی تبدیل کیا جاسکتا ہے اور اس کا دورانیہ بھی صرف ایک گھنٹے ہوگیا ہے۔