4 فروری 2015
وقت اشاعت: 17:52
بالاکوٹ میں زلزلے سے تباہ ہونے والا اسپتال اب تک تعمیر نہ ہوا
مانسہر........2005ءکے زلزلے میں بری طرح تباہ ہو نے والی تحصیل بالاکوٹ کی آبادی 6لاکھ نفوس تک پہنچ گئی ہے۔ اربوں ڈالر کی امداد کی وصولی کے باوجود متاثرین زلزلہ کے لئے9سال میں تین ادوار کے حکمران ایک اسپتال تک تعمیر نہ کر سکے۔2005ءکے زلزلے میں بالاکوٹ میں ہزاروں افراد کی شہادت کے ساتھ ساتھ انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔عوام کوعلاج کی سہولت فراہم کرنے کے لئے این جی اوز نےایک عارضی اسپتال قائم کیا تھا مگر یہ عمارت2010ءکے سیلاب میں بہہ گئی۔ کرائے کی چھوٹی سی عمارت میں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال تو قائم کردیا گیا مگر سہولت کوئی نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے غریبوں کے علاج معالجے کی مفت سہولت کی فراہمی کے پروگرام میں بھی متاثرین زلزلہ کی 6لاکھ کی آبادی کو فراموش کر دیا۔سیاحت کے موسم میں لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث بالاکوٹ کی آبادی دوگنا ہوجاتی ہے۔ ایسے میں یہ اسپتال اور اس کے 3ڈاکٹرز قطعاً ناکافی ہیں۔اسپتال میں ایکسرے،لیباریٹری اور دیگر سہولیات کا بھی فقدان ہے۔تحصیل بالاکوٹ کے 200کلومیٹر طویل اس پہاڑی علاقے میں آئے دن حادثات میں زخمی ہونے والوں کو بالاکوٹ اسپتال لایا جاتا ہے جہاں سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سےدرجنوں افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔