8 مارچ 2015
وقت اشاعت: 11:32
تھر میں چھ لاکھ سے زائد خواتین صحت کی بنیادی سہولت سے محروم
تھر......تھر کے صحرا میں چھ لاکھ سے زائد خواتین صحت کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں ،دور دراز کے علاقوں کی اکثر خواتین کیلئے وسائل کی عدم دستیابی کے باعث اسپتالوں تک رسائی بھی ممکن نہیں ،وسائل کی عدم دستیابی کے سبب صحرائے تھر میں خواتین کے لئے زندگی اوربھی زیادہ مشکل ہوتی جارہی ہے ۔یہاں خواتین بے بسی کی وہ تصویر ہیں جن کے لئے دن رات مشقت کے باوجود بنیادی سہولتوں کا حصول آج بھی ایک خواب ہی رہا ہے یہاں ترقی کے تما م دعوے ان خواتین کے لئے صرف دعوے ہی ہیں ۔ضلع میں 1سول اور 3تحصیل اسپتال جبکہ 2 دیہی صحت مراکز ہیں جبکہ محکمہ صحت کے زیر اہتمام 105ڈسپنسری ہیں جن میں سے صرف چھ مقامات پر خواتین ڈاکٹرز دستیاب ہیں جبکہ پرائمری صحت کے پروگرام کے تحت چلنے والے 59ڈسپنسریوں میں بھی خواتین ڈاکٹر کی دستیابی ایک سوال ہے،21ہزار مربع کلو میٹر رقبے پہ پھیلے تھر میں اکثر مقامات تک راستے ہی نہیں ہیں اوریوں زندگی اورموت کے بیچ کھڑی کئی حاملہ خواتین اسپتالوں تک پہنچتے پہنچتے یاتوخود انتقال کرجاتی ہیں یا ننھے وجود کوقربان کردیتی ہیں ۔صحت کی سہولیات تھری خواتین کے لئے کوئی امداد یا خیرات نہیں بلکہ انکاوہ بنیادی حق ہے جس کی عدم فراہمی کے بغیر خواتین اور معاشرے کی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔