ادھر لے کے آ گیا
شاید میں زندگی کی سحر لے کے آ گیا ،
قاتل کو آج اپنے ہی گھر لے کے آ گیا ،
تا عمر ڈھونڈتا رہا منزل میں عشق کی ،
انجام یہ کے گرد سفر لے کے آ گیا ،
نشتر ہے میرے ہاتھ میں کندھوں پے میکدہ ،
لو میں علاج درد جگر لے کے آ گیا ،
" فاکر " صنم کدے میں نا آتا میں لوٹ کر ،
ایک زخم بھر گیا تھا ادھر لے کے آ گیا .
Posted on Feb 16, 2011
سماجی رابطہ