مغرور ہی سہی
مغرور ہی سہی مجھے اچھا بہت لگا ،
اجنبی تو تھا مگر اپنا بہت لگا ،
صحرا میں جو جی رہا تھا دریا دلی کے ساتھ ،
دیکھا جو غور سے تو وہ پیاسا بہت لگا ،
وہ جسکے دم قدم سے تھیں بستی کی رونقیں ،
بستی اجڑ گئی تو اکیلا بہت لگا ،
لپٹا ہوا کہر میں خزاں کا چاند ،
میلے لباس میں بھی وہ پیارا بہت لگا ،
ریشم پہن کے بھی میری قیمت نا بڑھ سکی ،
کھدر بھی اسکے جسم پر مہنگا بہت لگا ،
جب آئینے پے میری سانس جم گئی ،
مجھ کو خود اپنا عکس بھی دھندلا بہت لگا .
Posted on Feb 16, 2011
سماجی رابطہ