رہتے ہیں ساتھ ساتھ
رہتے ہیں ساتھ ساتھ میں اور میری تنہائی
کرتے ہیں راز کی بات میں اور میری تنہائی
دن تو گزر ہی جاتا ہے لوگوں کی بھیڑ میں
کرتے ہیں بسر رات میں اور میری تنہائی
سانسوں کا کیا بھروسہ کب چھوڑ جائے ساتھ
لیکن رہینگے ساتھ میں اور میری تنہائی
آئے نا تمہیں یاد کبھی بھول کر بھی ہم
کرتے ہیں تمہیں یاد میں اور میری تنہائی
آ کے پاس کیوں دور ہو گئے ہم سے
کرتے ہیں تیری تلاش میں اور میری تنہائی
تم کو رکھینگے ساتھ زینت بنا کے گھر کی
رہ جائیں پھر نا تنہا میں اور میری تنہائی
Posted on Feb 16, 2011
سماجی رابطہ