سارے رشتے بھلائے جائیں گے
سارے رشتے بھلائے جائیں گے
اب تو غم بھی گنوائے جائیں گے
جانئے کس قدر بچے گا وہ
اس سے جب ہم گھٹائے جائیں گے
اُس کو ہوگی بڑی پشیمانی
اب جو ہم آزمائے جائیں گے
جون یوں ہے کہ آج کے موسیٰ
آگ بس آگ لائے جائیں گے
زخم پہلے کے اب مفید نہیں
اب نئے زخم کھائے جائیں گے
شاخسارو! تمھارے سارے پرند
اک نفس میں اڑائے جائیں گے
ہم جو اب تک کبھی نہ پائے گئے
کن زمانوں میں پائے جائیں گے
جمع ہم نے کیا ہے غم دل میں
اب اس کا سود کھائے جائیں گے
آگ سے کھیلنا ہے شوق اپنا
اب ترے خط جلائے جائیں گے
ہو گا جس دن فنا سے اپنا وصال
ہم نہایت سجائے جائیں گے
جون ایلیا
بدھ, 06 فروری 2013