9 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 23:22
شام پر حملے کی قرار داد پر امریکی سینیٹ میں ووٹنگ بدھ کو ہوگی
جیو نیوز - واشنگٹن… شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر امریکی سینیٹ میں ووٹنگ بدھ کو ہو گی۔ ادھر جنگ سے بچنے کے لیے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیار عالمی برادری کے حوالے کر نے کی روسی تجویز پر ملا جلا رد عمل سامنے آ رہاہے۔ شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر امریکی سینیٹ میں بدھ کو ووٹنگ ہو گی۔ امریکی صدر اوباما زیادہ سے زیادہ سینیٹرز کو اپنی قرارداد کی حمایت کے لیے قائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سینیٹ کے 60 ووٹ ملنے کے بعد یہ قرارداد ایوانِ نمائندگان میں جائے گی۔ وہاں سے منظوری حاصل ہوئی تو اوباما کو کارروائی کا اختیار مل جائے گا۔ اس پورے عمل میں تقریبا ایک ہفتہ لگنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کی جانب سے فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے شام حکومت کو کیمیائی ہتھیار عالمی برادری کے حوالے کرنے کی تجویز پر رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے تجویز کو مثبت قرار دیا اور کہاکہ اگر شام اس پر راضی ہو بھی جاتا ہے تو یہ بات یقینی بنانی ہو گی کہ ایسا صرف وقت ضائع کرنے کے لیے نہیں کیا جا رہا۔ امریکا نے تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت نے پچھلے دو سال میں بہت سی یقین دہانیاں کرائیں، لیکن ان پر قائم نہ رہی۔اب ان پر یقین کیسے کر لیں؟ امریکی صدر کے نائب مشیر برائے قومی سلامتی، ٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ شام اگر کیمیائی ہتھیار پھینک دے تو اچھی بات ہے لیکن اس پردباوٴ برقرار رکھنے کے لیے کانگریس کو امریکی حملے کی منظوری بھی دے دینی چاہئے۔ ادھر امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں شام کے صدر بشار الاسد نے ایک بار پھر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے شام پر حملہ کیا تو بھر پور جواب دیا جائے گا۔