24 اکتوبر 2013
وقت اشاعت: 21:10
امریکا کا پاکستان سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ
جیو نیوز - واشنگٹن…نواز اوباما ملاقات کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی واشنگٹن کے مختلف ستونوں کی جانب سے مطالبات کی فہرست آنا شروع ہوگئی ہے، محکمہ خارجہ نے شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے تو سینئر امریکی حکام کہتے ہیں کہ امریکا چاہتاہے کہ پاکستان جماعت الدعوة پر پابندی لگادے، ڈرون حملوں پر سب کا ایک ہی جواب تھا یعنی کوئی جواب نہیں۔ واشنگٹن میں نواز اوباما ملاقات کے بعد اب امریکی مطالبات کھل کر سامنے آرہے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے تو سینئر امریکی حکام نے پاکستانی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے جماعت الدعوة پر پابندی کی امریکی خواہش کو بیان کردیا،محکمہ خارجہ کی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ شکیل آفریدی نے اسامہ تک رسائی میں مددفراہم کرکے اچھاکام کیا، ڈرون حملوں پر سوال اٹھا تو امریکی محکمہ خارجہ، سینئر امریکی حکام کی بریفنگ اور وہائٹ ہاوٴس کا ایک ہی جواب تھا،یعنی کوئی جواب نہیں،محکمہ خارجہ نے تو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے ہی انکار کردیا، ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات ہوئی تو سینئر امریکی حکام کا جواب تھا کہ دو طرفہ مذاکرات میں تو یہ معاملہ اٹھایا ہی نہیں گیا،رہی اوباما نواز ملاقات تو اس میں کیا بات ہوئی یہ ہم نہیں جانتے،امریکی حکام کی بریفنگ میں یہ ضرور کہا گیا کہ نواز شریف نے بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانے کے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے اور امریکا تعلقات کی بہتری اور مذاکرات کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے گا۔ادھر وہائٹ ہاوٴس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا تھا کہ اوباما نواز مذاکرات کارآمد اور تعمیری رہے، دونوں رہنماوٴں نے مشترکا امور پر کھل کر بات کی۔ ملاقات میں معیشت، توانائی اوردہشت گردی کیخلاف جنگ کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا، پاکستان نے دہشت گردی کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔