12 نومبر 2013
وقت اشاعت: 2:10
نصیرالدین حقانی کے قتل میں فضل اللہ گروپ کا ہاتھ ہوسکتا ہے،امریکی اخبار
جیو نیوز - واشنگٹن…ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں طالبان رہنما نصیر الدین حقانی کے قتل میں تحریک طالبان فضل اللہ گروپ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ امریکی اخبار میامی ہیرالڈ کا طالبان کمانڈر اور پاکستانی سیکیورٹی ذرائع سے حوالے سے کہنا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ملا فضل اللہ کے بطورامیر انتخاب سے تحریک طالبان پاکستان میں اختلاف پھوٹ پڑے ہیں۔اخبار نے ایک افغان طالبان کمانڈر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کے قتل کے بعد افغان طالبان نے افغانستان میں فضل اللہ کے بیس پرحملہ کیا تھا، نصیرالدین حقانی کا قتل اس حملے کا بدلہ ہوسکتا ہے۔اخبار کے مطابق نصیرالدین حقانی کی ہلاکت سے حقانی نیٹ ورک کی فنڈ ریزنگ میں مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ ان کے سعودی عرب اورعرب امارات کے حکمران خاندانوں سے قریبی تعلقات تھے،خیال ہے کہ نصیرالدین حقانی کی والدہ بھی شارجہ میں مقیم ہیں۔کراچی میں مقیم ایک طالبان کمانڈر کے مطابق ہو سکتا ہے نصیرالدین حقانی وہی شخص ہو جوافغان طالبان کے ترجمان ذبیح الدین مجاہد کے نام سے جانا جاتا ہے۔نصیرالدین حقانی جلال الدین حقانی کے9 بیٹوں میں سب سے بڑاتھا۔ حقانی نیٹ ورک کی قیادت نصیرالدین کے سوتیلے بھائی سراج الدین حقانی کررہے ہیں۔ ان کاایک بھائی محمد عمرجولائی 2010ء میں شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں ہلاک ہوا جبکہ دوسرا بھائی محمد فروری میں افغان صوبے پکتیا میں امریکی فوج سے لڑائی میں مارا گیا۔