7 دسمبر 2015
وقت اشاعت: 18:59
داعش اسلام کے نمائندے نہیں، قاتل ہیں،صدر اوبامہ
جیو نیوز - واشنگٹن..........امریکی صدر براک اوبامہ نے ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں فائرنگ کے حالیہ واقعے کو دہشت گردی کی واردات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیلیفورنیا واقعہ کے بعد امریکی مسلمانوں کے خلاف مذہبی منافرت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکا اور اسلام کی جنگ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے،داعش اسلام کے نمائندے نہیں، وہ قاتل ہیں،مسلمانوں کیساتھ تعصب ناقابل قبول ہے،تمام مذاہب کے ماننے والوں کااحترام کرنا ہوگا،مسلمانوں کے خلاف نھیں دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں جب تک مسلم ممالک اپنے گھروں سے شدت پسندی کا خاتمہ نہیں کردیتے اس وقت تک ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا میں ہونے والے حملے کے بعد وائٹ ہاؤس کے اوول آفس سے براہ راست قوم سے خطاب کرتے ہوئے بارک اوبامہ کا کہنا تھا کہ آزادی خوف سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، کیلی فورنیا واقعے کے بعد امریکا کے لیے دہشت گردی کے خطرات بڑھ گئے ہیں، لیکن امریکا اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پا لے گا۔
اوبامہ نے کہاکہ دہشت گردوں نے سماجی سینٹر پر حملہ کر کے معصوم لوگوں کو قتل کیا، ایف بی آئی حکام کیلیفورنیا واقعہ کے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ہمارے قریبی دوست اور اتحادی ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی تاہم کیلیفورنیا واقعہ کے بعد جنگ زدہ علاقوں سے آنے والے مہاجرین کی اسکریننگ سخت کر دی جائے گی۔
ہمارا فوکس شام اور داعش ہی رہے گئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان ممالک سے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ چھوڑ دیں جہاں شدت پسند نظریات کے حامل لوگ موجود ہیں، مجھے یقین ہے کہ ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے کیونکہ ہم حق پر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پیرس حملوں کے بعد اتحادیوں سے انٹیلی جنس شیئرنگ میں اضافہ کیا، شام کے بحران کا پرامن حل چاہتے ہیں اور ترکی سے شام کی سرحد بند کرنے پر بات چیت جاری ہے، داعش کے خلاف عراق اور شام کی مدد جاری رکھیں گے۔