30 جنوری 2016
وقت اشاعت: 15:41
لاکھوں تارکین وطن کی سمندر کے راستے یورپ آمد
جیو نیوز - لندن… مہاجرین کی فلاح کے لئے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ 2015 کے دوران دس لاکھ سے زائد تارکین وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہوئے ۔ یو این ایچ سی آرکی جاری کردہ معلومات میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں داخل ہونے والے 80 فیصد تارکین وطن سمندر کا مشکل سفر طے کر کے یونان پہنچے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ساڑھے آٹھ لاکھ تارکین وطن ترکی سے یونان میں داخل ہوئے جبکہ ڈیڑھ لاکھ افراد لیبیا سے بحیر روم عبور کرکے اٹلی پہنچے ۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدان دنوں ایک مرتبہ پھر یورپ کو تارکین وطن کے حوالے سے بحران کا سامنا ہے۔ 2014 کے مقابلے میں سمندر کے راستے یورپ آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ 2014 میں 2لاکھ 16ہزار افراد سمندر کے راستے یورپ آئے تھے۔
یو این ایچ سی آرکے مطابق تارکین وطن کی تعداد میں اضافے سے غیر پائیدار اور غیر محفوظ کشتیوں کے استعمال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اپنے ملک میں جنگ، تشدد، بدحالی سے بھاگ کر بین الاقوامی تحفظ کے لیے یہ افراد اس خطرناک سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔
یو ین ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ بحیر روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے والوں میں 49 فیصد کا تعلق شام اور 21 فیصد کا تعلق افغانستان سے ہے جبکہ دشوار گزار سفر کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3735 ہوگئی ہے۔
اس سے قبل آئی او ایم نے کہا تھا کہ رواں سال خشکی اور سمندر کے ذریعے یورپ میں مجموعی طور پر 10 لاکھ چھ ہزار تارکین وطن داخل ہوئے ہیں۔یہ تارکین وطن سخت سردی میں بھی مشکل سفر طے کر کے یورپ پہنچے رہے ہیں اور یورپ میں تارکین وطن کی آمد سے بحران پیدا ہو گیا ہے۔
بعض یورپی ممالک نے تارکین وطن کے داخلے کو روکنے کے لیے سرحدپر باڑ لگا دی ہے اور نگرانی کے لیے خصوصی ادارہ بنایا ہے۔جرمنی میں دس لاکھ تارکین وطن نے پناہ لی ہوئی ہے۔