14 مارچ 2016
وقت اشاعت: 21:10
برطانوی خاتون تنظیم دولت اسلامیہ کی رکنیت کی مجرم قرار
جیو نیوز - لندن ......برطانوی خاتون ترینہ شکیل جو اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ شام گئی تھیں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی رکنیت کی مجرم قرار پائیں ۔26 سالہ برطانوی خاتون پر خود ساختہ خلافت سے واپسی پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
برمنگھم سے تعلق رکھنے والی ترینہ شکیل کو ٹوئٹر پر پیغامات کے ذریعے دہشت گردی کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کا مجرم بھی ٹھہرایا گیا وہ ان الزامات کی تردید کرتی ہیں تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ شام گئی تھیں ۔برمنگھم کراؤن کورٹ میں دو ہفتے کی سماعت کے بعد، ججز نے ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ان کی خواہش صرف شرعی قانون کے زیر اثر علاقے میں رہنے کی تھی ۔
ججز نے انھیں ان کے وہ ٹویٹس، پیغامات اور تصاویر دکھائیں جن میں دولت اسلامیہ کے نشان والی تصاویر بھی شامل تھیں اور انھوں نے ہتھیار اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ترینہ شکیل اکتوبر 2014 میں خفیہ طور پر شام چلی گئی تھیں جہاں سے انھوں نے تصاویر پوسٹ کی تھیں جن میں ان کے بیٹے کے سر پر دولت اسلامیہ کا جھنڈا بندھا ہوا بھی دکھایا گیا تھاانھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ ہیٹ یا ٹوپی پسند کرتا ہے۔
ترینہ شکیل کے وکلا کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے کہ وہ اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ شام اس لیے گئی تھیں کہ وہ ناخوشگوار خاندانی زندگی سے فرار چاہتی تھیں۔ترجمان کے مطابق یہ ناقابل یقین ہے کہ ایک ماں اپنے بچوں کو اس قدر خطرناک صوتحال میں ڈالنے کی خواہش رکھتی ہے جس سے اس کو نقصان اور موت کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
ترینہ شکیل دولت اسلامیہ کے زیر اثر علاقے سے جنوری 2015 سے لوٹ آئیں۔ وکلا کا کہنا تھا کہ وہ شام میں ناخوش تھیں اور انھوں نے عدالت کو بتایاکہ میں اپنی مرضی سے واپس آئی ہوں ۔ کیونکہ مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلطی کی تھی۔ترینہ شکیل کے مطابق وہ دہشت گرد گروہ کے شکنجوں سے ایک بس کے ذریعے فرار ہوئیں اور ایک ٹیکسی والے کو رشوت دے کر ترکی کی سرحد پار کی۔ترینہ شکیل کو پیرکے روز سزا سنائی جائے گی۔