14 مارچ 2016
وقت اشاعت: 23:3
بین الاقوامی یقین دہانیوں کے بعد شامی اپوزیشن کی جنیوا روانگی
جیو نیوز - دمشق......شام میں امن سے متعلق حزب اختلاف کی اعلی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان منظر ماخوس نے کہاہے کہ اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والی مذاکراتی ٹیم کی جنیوا روانہ ہوگئی ہے تاہم وفد کی امن مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے شرائط اپنی جگہ برقرار ہیں۔
ان شرائط میں بشار الاسد حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قرار دادوں کا نفاذ بالخصوص قرارداد نمبر 2254 اور ان میں اہم ترین آرٹیکل 12 اور 13، جن کے تحت شام میں شہروں اور قصبوں کا حکومتی محاصرہ ختم کرنے، انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دینے، بمباری روکنے اور قیدیوں کی رہائی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں کئی روز تک جاری رہنے والی کثیر مشاورت کے بعد بالآخر اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی نے جنیوا بات چیت کے تیسرے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرلیا۔ کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آمادگی کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر عمل درامد کے حوالے سے بین الاقوامی یقین دہانیاں ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔
اسی ضمن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی باور کرایا ہے کہ ان کا ملک جنیوا مذاکرات کے پہلے دور کے اعلامیے کے مطابق مکمل اختیارات کی حامل ایک عبوری حکمراں کمیٹی کی تشکیل کے ذریعے اقتدار کی سیاسی منتقلی کو سپورٹ کرے گا۔شامی اپوزیشن کی اعلیٰ کمیٹی کے مطابق اس کا جنیوا جانا شامی حکومت کی سنجیدگی کا امتحان لینے کے لیے ہے۔
کمیٹی کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات بالواسطہ صورت میں ہوں گے اور کمیٹی کو کئی خلیجی برادر اور دوست ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے سپورٹ حاصل ہے۔ادھر سعودی عرب نے اپوزیشن کی جانب سے جنیوا مذاکرات میں شرکت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس فیصلے کو امریکی وزیر خارجہ نے بھی سراہا ہے۔