تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
17 مارچ 2016
وقت اشاعت: 10:7

شامی تنازع میں ملوث امیر ممالک امداد کے معاملے میں پیچھے

جیو نیوز - لندن........بین الاقوامی امدادی تنظیم آکسفیم نے کہاہے کہ فرانس، سعودی عرب اور روس شامی خونریز تنازع کے متاثرین کے لیے مالی امداد دینے والوں کی فہرست میں کافی نیچے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی امدادی ادارے آکسفیم نے جاری کردہ رپورٹ میں کہاکہ زیادہ تر امیر ممالک اتنی مالی امداد نہیں دیتے، جتنا کہ ان کو اپنی اقتصادیات کے لحاظ سے دینا چاہیے۔ پیر کوجاری کردہ رپورٹ میں کہاگیاکہ گزشتہ برس کل 8.9 بلین ڈالر امداد کی درخواست کی گئی تھی، جس کا صرف 56.6 فیصد موصول ہوا۔

آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق روسی حکومت اپنی معیشت کے حجم کے اعتبار سے بننے والی امدادی رقم کا محض ایک فیصد امداد کی مد میں ادا کرتی ہے جبکہ سعودی عرب اٹھائیس فیصد۔ ان دونوں ہی ممالک نے شامی تارکین وطن کو پناہ دینے سے انکار کر رکھا ہے۔

دریں اثنا ریاض حکومت کی طرف سے دمشق حکومت کے خلاف برسر پیکار باغی گروپس کی عسکری امداد کی جاتی ہے جبکہ ماسکو ، شامی صدر بشار الاسد کی حمایت میں باغی گروپوں کے خلاف فضائی کارروائی کررہا ہے۔

مغربی ممالک میں فرانس نے گزشتہ برس امریکا کی قیادت میں شام میں آئی ایس ایس کے خلاف مہم میں شراکت شروع کی تھی تاہم یہ ملک امداد کی مد میں اپنی معیشت کے حجم کے اعتبار سے بننے والی امدادی رقم کا پینتالیس فیصد ادا کرتا ہے۔ گزشتہ برس فرانس نے پانچ ہزار شامی مہاجرین کو سیاسی پناہ فراہم کی تھی۔

دوسری جانب امریکا نے اپنے حصے کی 76 فیصد رقوم دی ہیں، تاہم امداد کی رقم کے لحاظ سے امریکا سب سے بڑا ڈونر ہے۔ اسی دوران چند یورپی ریاستوں نے اپنے حصے سے کہیں زیادہ امدادی رقوم مہیا کی ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.