21 مارچ 2016
وقت اشاعت: 3:49
روس بشارالاسد کی علوی ریاست کے لیے کوشاں ہے،برطانیہ
جیو نیوز - روم ..........برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ روس بشار الاسد کےلیے ایک علوی ریاست کے قیام کے لیے شام کے امن کے عمل (جنیوا میں جاری حالیہ مذاکرات) کو استعمال کر سکتا ہے، شام میں شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنا کر روس بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ کیا روس حقیقت میں امن کے عمل میں مخلص ہے یا پھر وہ امن کے عمل کو ایسے پتوں کے طور پر استعمال کر رہا ہے جن کے پیچھے بشار الاسد کو فوجی نصرت فراہم کرنے کی کوشش چھپی ہوئی ہے تاکہ شام کے شمال مغرب میں ایک علوی ریاست کا قیام عمل میں آ سکے؟۔
بشار الاسد کا تعلق علوی شیعہ فرقے سے ہے جو شام میں اقلیت میں ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ آیا روس شام میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ بظاہر تو نظر آ رہا ہے اور آپ لوگوں پر اس معاملے کی باریک بینی سے تحقیق لازم ہے۔ شہری علاقوں پر بنا کسی امتیاز کے مسلسل بمباری کی جا رہی ہے۔
یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ نے پیر کے روز اردن میں الزعتری پناہ گزین کیمپ کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ روس نے بشار الاسد کی مردہ حکومت میں جان ڈال دی، اس لیے وہ اس تنازع کی مدت طویل ہونے کے ذمہ دار ہیں، مجھے اس بات پر سخت افسوس ہے کیوں کہ بحران کے حل کے لیے ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں روس کی جانب سے اس کو سبوتاژ کر دیا جاتا ہے۔