21 مارچ 2016
وقت اشاعت: 8:17
اسلام پر حملہ تمام مذاہب پرحملےکےمترادف ہے، اوباما
جیو نیوز - میری لینڈ........ دور صدارت کے پہلے دورے میں صدربراک اوباما نے مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی مسلمانوں کے خلاف سیاسی بیان بازی کی امریکی معاشرےمیں کوئی جگہ نہیں، اسلام پر حملہ تمام مذاہب پرحملےکےمترادف ہے، امریکی مسلمانوں سےہمیں تحفظ کااحساس ہوتاہے، ہم اسلام کونہیں دبارہے، مسلمانوں سےمل کرانتہاپسندی کاخاتمہ کیاجاسکتاہے۔
امریکی صدارت کےدودورمکمل ہونےسےچندماہ پہلے صدراوباما نے مسجدکادورہ کیا۔ریاست میری لینڈکےشہر بالٹی مور کی اسلامک سوسائٹی کےاس دورےمیں صدراوباما نے کہا کہ امریکا اسلام کودبانہیں رہابلکہ ان کی حکومت سمجھتی ہے کہ مسلمانوں کےساتھ مل کرانتہاپسندی کاخاتمہ کیاجاسکتاہے۔
پچھلےبرس کیلی فورنیامیں دہشتگردی کےبعدامریکی مسلمانوں اور مساجد پرحملوں میں اضافہ ہواہےاوربعض مسلمان خودکو غیرمحفوظ تصورکرنےلگےہیں۔ امریکی مسلم شہریوں کے کردار کوسراہتےہوئے صدراوبامانے کہاکہ مسلم کمیونٹی مقامی افرادکےلیےاحساس تحفظ کاباعث ہے۔
ری پبلکن لیڈرخود صدراوباماکی شہریت اوران کےمذہب کےبارےمیں بھی سوال اٹھاتےرہےہیں۔صدراوبامانےان پرجوابی طنزکیا۔امریکامیں یہ صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کادور ہےجب صدارتی امیدواربننےکےری پبلکن خواہشمندڈونلڈٹرمپ زوردے رہے ہیں کہ مساجدکی نگرانی اورمسلمانوں کےامریکاداخلےپرپابندی لگائی جانی چاہیے۔
صدراوبامایہودیوں،مسلمانوں اورمسیحیوں سےخطاب کی آٹھ روزہ مہم پر ہیں اورتجزیہ کاروں کےنزدیک اس مہم سےڈیموکریٹس کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ کاامکان ہے۔