23 مارچ 2016
وقت اشاعت: 21:46
افغانستان میں امن مذاکرات چھ ماہ میں متوقع ہیں،عبداللہ
جیو نیوز - نئی دہلی.........افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بعض طالبان دھڑوں کی جانب سے تشدد ترک کرنے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان آئندہ 6 ماہ میں امن مذاکرات کی توقع کررہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ملا عمر کی موت نے طالبان کو کئی دھڑوں میں تقسیم کردیا ہے جس نے امن مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی اس اْمید کا اظہار بھی کیا جاسکتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے جنوبی ایشیاء کی ریاست میں 15 سال کے خونی تصادم کے بعد امن قائم ہوسکتا ہے۔
انہوںنے کہا کہ طالبان کے درمیان کچھ ایسے دھڑے موجود ہیں جو تشدد کو ترک کرنا چاہتے ہیں۔طالبان سے مذاکرات کے آغاز کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ یہ 6 ماہ میں ہونا چاہیے، تشدد ترک کرنے والے طالبان دھڑوں اور افغان سیکیورٹی ایجنسیز کے درمیان رابطے موجود ہیں لیکن انھوں نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کی مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔
عبداللہ عبداللہ نے کہاکہ چین افغان مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کررہا ہے کیونکہ ان کے صوبے سنگیانگ میں مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ کی تنظیم مسلح کارروائیوں میں مصروف ہے جو طالبان کے ساتھ افغان جنگ میں بھی شامل ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ بیجنگ کے قریبی تعلقات اتنے ہی اہم ہیں کیونکہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد کرسکتے ہیں۔ چین، پاکستان اور امریکا متفق ہیں کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں گے۔