3 اپریل 2016
وقت اشاعت: 14:39
داعش امریکا اور ایران کی پیداوار ہے،خضر الابراہیمی
جیو نیوز - پیرس........الجزائر کے سابق وزیرخارجہ اور شام کیلئے اقوام متحدہ کے سابق مندوب الاخضر الابراہیمی نے شام کے بحران کے حل میں ناکامی اور دولت اسلامی’’داعش‘‘ سے نمٹنے کے طریقہ کار پر امریکا اور ایران کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’داعش‘‘ امریکا اور ایران کی پیداوار ہے۔
ایک فرانسیسی نیوز ویب پورٹل کو دیے گئے انٹرویو میں اقوام متحدہ کے سابق ایلچی نے شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج پر سخت مایوسی کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ دولت اسلامی (داعش) کی بنیاد عراق میں رکھی گئی اور آج یہ تنظیم نہایت موثر اور طاقت ور گروپ کی شکل میں تیزی کے ساتھ دنیا بھرمیں اپنے پنجے گاڑ رہی ہے۔
داعش 2003ء میں عراق پر امریکی یلغار کا نتیجہ ہے۔ تمام ترعالمی پابندیوں کے باوجود امریکی حملے سے قبل عراق ایک جدید ریاست تھی۔ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے نے مشرق وسطیٰ کا توازن میں جوہری تبدیلیاں کیں۔ امریکا نے صدام حسین کی آمریت کے خاتمے کے لیے عراق کی فوج اوربعث پارٹی جیسے دو اہم ریاستی ستون ختم کر دیے ۔
جس کے نتیجے میں عراق میں مسلح ملیشیاؤں نےپر پرزے نکال لیے۔ میرا خیال ہے کہ القاعدہ امریکا کی مداخلت کا فطری نتیجہ اور داعش ایران اور امریکا کی دوسرے ملکوں میں مداخلت کا ثمر ہے۔عراق پرامریکی فوج کشی نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی توازن کو یکسرالٹ دیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا عراق پر حملے کی غلطی کیوں کی؟اس کے جواب میں الابراہیمی نے کہا کہ یہ بات ہمیشہ ایک سربستہ راز رہے گی۔ جب عراق پرحملہ کیا گیا اس وقت عراق کا مسئلہ امریکی وزارت خارجہ کا نہیں بلکہ وزارت دفاع کے ہاں زیادہ متنازع تھا۔