15 اپریل 2016
وقت اشاعت: 2:46
امریکا:جرم ثابت نہ ہو سکا،43سال بعد قیدی کو رہائی مل گئی
جیو نیوز - کراچی......جنگ ویب...... امریکا کی تاریخ میں سب سے طویل قید تنہائی کی سزا کاٹنے والے البرٹ وڈ فوکس نامی شخص کو 43 برس بعد انگولا جیل سے رہا کر دیا گیا ،قتل اور ڈکیتی کے الزام میں ان پر دو مرتبہ مقدمات چلائے گئے تاہم عدالت نے ان کیخلاف ثبوت کو ناکافی قرار دیتے ہو ئے الزامات کوخارج کردیا تھا۔
لوزیاناکی بدنام انگولا جیل سے رہاہونے والے البرٹ وڈ فوکس کی رہائی کی سرکاری اٹارنی نے مخالفت کرتے ہو ئے ملزم کے خلاف تیسری مرتبہ مقدمہ چلانے کی درخواست کی تاہم عدالت نے اٹارنی جنرل کی یہ درخواست مسترد کردی۔البرٹ وڈ فوکس کے وکیل نےطویل سزا کو غیر انسانی قرار دیا ۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چار عشروں تک تنہا انگولا جیل کی کال کوٹھری میں سزا کاٹنے والے البرٹ وڈ فوکس آخری قیدی تھے۔وڈ فوکس کو لوزیانا کی خطرناک ’انگولا جیل‘ میں ڈکیتی اور حملے کے جرم میں قید کیا گیا تھا اور اسی دوران سنہ 1972 میں ایک محافظ برائنٹ ملر کے قتل کے بعد انھیں تنہا ایک کال کوٹھری میں ڈال دیا گیا تھااوراس دوران البرٹ وڈ فوکس پر دو بار مقدمہ چلا لیکن دونوں ہی بار عدالت نے ان الزامات کو خارج کر دیا ۔
وڈ فوکس نے اپنی رہائی کے بدلے کم تر درجے کے الزامات کو چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد انھیں رہائی مل گئی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انھوں نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔‘اپنی رہائی کے بعد انھوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ اپنی ماں کی قبر پر جانا چاہتے ہیں،واضح رہے کہ دوران اسیری البرٹ وڈ فوکس کی ماں کی موت واقع ہو گئی تھی اور وڈ فوکس کو ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔