تازہ ترین سرخیاں
 کاروبار 
11 اگست 2015
وقت اشاعت: 19:17

43 کھرب 13 ارب کا وفاقی بجٹ پیش، خسارہ 13 کھرب 28 ارب

جیو نیوز - اسلام آباد........وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 43کھرب13 روپے کابجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر میں اسحاق ڈارنےبتایاکہ بجٹ میں کل اخراجات 4089 ارب روپے رکھے گئے ہیں،جاری اخراجات کا تخمینہ 3128 ارب روپے ہے۔ دفاعی بجٹ بڑھاکر 780 ارب روپے کردیاہے ، عارضی طور پر بے گھر ہونےوالے افراد کی بحالی کےلیے 80 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ بجٹ خسارہ 4 اعشاریہ 3 فی صد تک لانا حکومت کی اہم کامیابی ہے، وفاقی خسارے کا تخمینہ1328ارب روپے ہے۔ اسحاق ڈارنے بتایاکہ گزشتہ مالی سال برآمدات اور افراط زر میں کمی آئی،مشینری کی درآمد میں 10 اعشاریہ 3 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹیکس میں رعایت کا اختیار فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے لے کر پارلیمنٹ کودے رےہیں ، 120ا رب روپے کی ٹیکس رعاتیں ختم کی جارہی ہیں۔ ٹیکس نا دہندگان کنٹریکٹرز پر ٹیکس کی شرح 3 فیصد ہو گی، ٹیکس نادہندگان سپلائرزپرٹیکس کی شرح 2 فیصد ہوگی۔ کمیشن ایجنٹ پر 3فیصد اور ڈیپازٹ کے منافع پر ڈھائی فیصد تک بڑھائی جائے گی۔ وزیرخزانہ نےکہاکہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں پر بینکوں میں رقوم کی منتقلی پر صفر اعشاریہ 6 فیصد ٹیکس لا گو ہو گا، بینکوں کے ذرائع آمدن پر موجودہ 35 فیصد کی شرح کے ٹیکس کو یکساں لاگو کرنے کی تجویز ہے۔ بجلی کے 75 ہزار سے زائد کے بل پر 10 فیصد انکم ٹیکس لگانے کی تجویز بھی ہے،پہلے یہ حد ایک لاکھ روپے تھی۔50کروڑ روپے سے زائد آمدنی والے افراد اور کمپنیوں پر ون ٹائم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ ٹیکس کی شرح بینکنگ کمپنیوں کےلیے آمدنی کا 4فیصد اور دیگر کےلیے آمدنی کا 3 فیصد ہو گی۔ کارپوریٹ کمپنیوں پر ٹیکس کی شرح 33 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ وزیرخزانہ نےکہاکہ ٹیکسوں میں ڈائریکٹ ٹیکس کاحصہ بڑھایاجارہاہے ، سگریٹ کی ڈیوٹی کی شرح 58فیصد سے بڑھا کر 63فیصد کرنے کی تجویز دی ہے ،اسی طرح گاڑیوں کی ٹرانسفر، ٹوکن اور ودھ ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کر دی گئی ہے، مختلف قسم کے موبائل ٹیلی فون سیٹس پر ڈیوٹی کی شرح دگنی کر دی گئی ہے۔ اسحاق ڈارنےبتایاکہ ملک میں زرمبادلہ کےذخائر17 ارب ڈالرزہیں جواس سال بڑھ کر19 ارب ڈالرزہوجائیں گے ۔ ٹیکسٹائل پالیسی 2014-2019ءکے لیے 64ارب 15کروڑ کا مالیاتی پیکیج دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم یوتھ بزنس لون اسکیم کے لیے شرح سود 8فیصد سے کم کرکے 6فیصد کردی گئی ہے جبکہ وزیراعظم کی خصوصی اسکیموں کے لیے 20ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیر اعظم یوتھ ٹریننگ اسکیم کے تحت ملک بھر میں ایم اے پاس 50000بے روزگارنوجوانوں کو انٹرن شپ اسکیم کے تحت 12000روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔ توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے لیے بلاسود قرضوں اور زرعی قرضوں کی حد 600ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، زراعت ،تعمیرات اور روزگارکے مواقع فراہم کرنے والی صنعتوں کو خصوصی مراعات دی جا رہی ہیں، تعمیرات اور عمارتوں کی خرید وفروخت پر کم سے کم ٹیکس کی حد 2018تک ختم کردی گئی ہے ،ہاؤسنگ اسکیموں کو بیچی گئی جائیداد پر کیپٹل گین 2018ءتک ختم کیا جارہاہےاور اینٹ اور بجری کو تین سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دی جارہی ہے، گرین فیلڈ صنعتوں میں سرمایہ کاری پر پوچھ گچھ کی چھوٹ 30جون 2017ءتک بڑھا دی گئی ہے،سولر پینلز اور اس سے متعلقہ سامان کی درآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی اگلے سال تک ختم کردی گئی ہے۔ حلال گوشت کے کاروبار پر 4سال کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ دی ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈارنےبتایاکہ زرعی مشینری پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 17فیصد سے کم کرکے 7فیصد کیا جارہاہے، زرعی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ودھ ہولڈنگ ٹیکس پر ٹیکسوں کی شرح کم کی جارہی ہے ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.