12 اگست 2015
وقت اشاعت: 1:1
ہماری تنخواہیں کون بڑھائے گا، پرائیوٹ ملازمین کا شکوہ
جیو نیوز - کراچی.......پرائیوٹ ملازمین نے شکوہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھ گئیں، ہماری کون بڑھائے گا؟؟مزدور نے التجا کی کہ بارہ، تیرہ ہزار مزدوری میں گھر کیسے چلائیں؟؟کوئی مہنگائی پر ناراض، کوئی ٹیکسوں میں اضافے پر بے قرار۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں، سب اچھا ہے، آل از ویل، ہر سال بجٹ آتا ہے تو عوام بدستور روتے اور حکمران سب اچھا کی خبر دیتے ہیں، 18کروڑ کے ملک میں اکثریت غریبوں کی ہے، ان میں سے تنخواہیں صرف سرکاری ملازمین کی بڑھائی گئیں، یہ اعلان سن کر پرائیویٹ ملازمین پر کیا بیتی ہوگی؟ یہ اور بات ہے کہ سرکاری ملازم بھی اپنی تنخواہوں میں اضافے پر مطمئن نہیں۔ وفاقی حکومت نے 44ارب روپے سے پنڈی اسلام آباد میں میٹرو بنا دی، اس کی خبریں سن کر پہلے ہی سے غریب علاقوں کے لوگوں نے کیا سوچا ہوگا۔ یہ کراچی ہے، اس کا پچھلے پورے سال کا ترقیاتی بجٹ 16ارب روپے تھا، آبادی میں پہلا نمبر، ٹیکس دینے میں بھی پہلا نمبر، لیکن موٹروے بنانی ہو یا میٹرو، کراچی نہ پہلے نمبر پر یاد آتا ہے، نہ دوسرے پر، نہ تیسرے پر، نہ چوتھے پر، تعمیرات کے شعبے کے لیے ترغیبات کا اعلان کیا گیا ہے، یہ گھر بنانے والا مزدور ہے، اپنا گھر تو یہ بنا ہی نہیں سکتا، ایک دن چھٹی کر لے تو رہے سہے گھر کا بجٹ بھی بگڑ جائے، مزدور کی کم از کم تنخواہ 12ہزار، ذرا 12ہزار کمانے والے ان مزدوروں کی بپتا سنیے کہ کیسے وہ زندگی سسکتے ہوئے گزارتے ہیں۔ کامیاب فیڈریشن وہ ہوتی ہے جو اپنے غریب بچوں، اپنے چھوٹوں کا خیال زیادہ رکھتی ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن صرف اپنے ووٹ بینک کو خوش کرتے رہیں وہاں وہی ہوگا جو 68سال سے ہو رہا ہے۔