تازہ ترین سرخیاں
 کاروبار 
14 اگست 2015
وقت اشاعت: 10:36

سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کی شرح 11 فیصد ہو گئی:وفاقی وزیر خزانہ

جیو نیوز - اسلام آباد........وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 2 ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ کا حصہ بنانے کے بعد تنخواہوں میں اضافے کی شرح 11 فیصد ہو گئی ہے۔ زر عی شعبےپر ٹیکس17 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کر دیا گیا، پولٹری پر5 فی صدسیلزٹیکس واپس لے لیاگیا، ٹیکس فائلرز پر ایک فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہاکہ سینیٹ کی 99 میں سے 56 تجاویز کو منظور کرلیاگیاہے، جبکہ 2 ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ کا حصہ بنانے کے بعد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7اعشاریہ5 فی صد اضافہ کیا جائے گا،یوں کل اضافے کی شرح 11 فیصد ہو جائےگی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں موبائل فون پلانٹس کی تنصیب کے لیے درآمدی مشینری پر کسٹم ڈیوٹی نہیں لی جائے گی جب کہ 5 سال کے لیے انکم ٹیکس کی چھوٹ بھی ہو گی۔ زر عی شعبےپر ٹیکس17 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ پولٹری پر5 فی صدسیلزٹیکس واپس لے لیاگیاہے، ٹیکس نان فائلرز پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر 10 سے 15 فی صد کر دی گئی ہے، ٹیکس فائلرز پر بھی ایک فی صد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد ہوگا۔ بینکوں سے 50 ہزار یا اس سے کم رقم نکلوانےپر لگایا گیا 0اعشاریہ 6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس واپس لے لیاگیاہے جبکہ 9 ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کی جا رہی ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئل سیڈ پر کسٹم ڈیوٹی ختم اور سیلز ٹیکس 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کردیا گیا ہے، سولر ٹیوب ویلز کے قرضوں کی واپسی کی مدت 5 سال والے مارک اپ کی شرح کے ساتھ ہی 7 سال کر دی گئی ہے، بہبود سیونگز کے بعد اب پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ کے سرمایہ کاروں کی حد 30 لاکھ سے بڑھا کر 40لاکھ کی جا رہی ہے،میوچل فنڈز اکاؤنٹس سے ورکرز ویلفیئرفنڈ کی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ داسو پن بجلی منصوبے کے لیے 52 ارب روپے جبکہ 2200 میگا واٹ کے سول نیوکلیئر منصوبوں کے لیے بھی رقم مختص کر دی گئی ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اور کراچی میں گرین لائن کا منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل کریں گے۔ اسحاق ڈار نے کہاکہ اگر فاٹا کو این ایف سی میں شامل کیا تو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی کرنا پڑے گا، تاہم اس پر حکومت کو اعتراض نہیں، صوبے رضا مند ہوں تو آئینی ترمیم کے لیے بھی تیار ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ رعایتی ایس آر اوز کے خاتمے کا بوجھ غریب نہیں امیر پر پڑے گا،، حج اسکیمز پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایاجارہا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی طرز پر چارٹر آف اکانومی بھی ہونا چاہیئے اور وہ اس حوالے سے کام کررہے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.