24 اگست 2015
وقت اشاعت: 0:3
بلیک بیری بزنس انٹرپرائز سروسز 30 نومبر سے پہلے بند کرنے کا حکم
جیو نیوز - اسلام آباد.......پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نےبلیک بیری بزنس انٹرپرائزسروسز کو30 نومبر سےپہلےبندکرنےکےاحکامات جاری کردیے ہیں۔ ذرائع کہتےہیں کہ کارپوریٹ سطح پراستعمال ہونےوالے ان سروسز کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کرنے کافیصلہ کیاگیاہے۔ اعلیٰ سطح کے ذرائع کا کہناہےکہ پاکستان ٹیلے کام اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بلیک بیری بزنس انٹرپرائزسروسز کو 30نومبر سے پہلے بند کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں اور تمام موبائل فون آپریٹرز کو سروسز ختم کرنے کے لئےخطوط بھی لکھ دیےگئےہیں، اس فیصلےسےپاکستان میں کارپوریٹ سطح پر بلیک بیری انٹرپرائزسروسز استعمال کرنے والے متاثر ہوں گے۔ بلیک بیری بزنس انٹرپرائز سروسز بند کرنے کافیصلہ سیکیورٹی خدشات کی بناء پر کیا گیا،بلیک بیری انٹرنیٹ سروسزبدستور صارفین کومہیا رہیں گی۔ ذرائع کہتے ہیں کہ کارپوریٹ سطح پر انٹرپرائز سروسز لینے والوں کا مقامی سرور ڈی کوڈ ہوسکتاہے نہ ٹیپ،حتیٰ کہ ملک میں گرے ٹریفکنگ روکنے کےلئے لگایا گیا مانیٹرنگ کا نظام بھی بزنس انٹرپرائز سروسز کوچیک نہیں کرسکتا۔ ٹیلی کام کمپنیوں کے سینئر حکام نے جیونیوز سے بات چیت میں کہا ہے کہ بلیک بیری انٹر پرائز سروسز بند کرنے کا بظاہر کوئی فائدہ نہیں،کمیونی کیشن کوراز رکھنے کےلئے کئی apps مارکیٹ میں موجود ہیں۔ اس فیصلے سےصرف کارپوریٹ سطح پر کسٹمرز متاثر ہوں گے اور اس فیصلے کامقصد کچھ اور ہوسکتاہے ۔ ممبرٹیلی کام پی ٹی اے عبدالصمد خان کہتے ہیں کہ پی ٹی اے ٹیلے کام ایکٹ میں نیشنل سیکیورٹی کے تقاضے پورے کرنے کا پابند ہے، موبائل آپریٹرز سے کہاتھاکہ کارپوریٹ سیکٹر کے بزنس انٹرپرائز سروسز کا ڈیٹا سیکیورٹی اداروں کوفراہم کریں،آپریٹرز کی جانب سےڈیٹا فراہم کرنے میں ناکامی پرسروسز بند کرنے کے احکامات جاری کیے،بزنس انٹرپرائز سروسز کےلئے ادارے الگ سرور لگاتے ہیں جو ٹریس یا ڈی کوڈ نہیں ہوسکتا۔ ان سےپوچھاگیاکہ بی ای ایس بند کرنے کی اصل وجہ ہے کیا؟؟ توانہوں نےکوئی واضح جواب نہ دیااورکہاکہ انٹرپرائز سروسز استعمال کرنے والے اب بلیک بیری انٹرنیٹ سروسز استعمال کرلیں ۔