تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
18 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 20:15

اسلام آباداوراسکے مضافات کے مدارس میں اساتذہ،طلبا مقامی نہیں

ملک کے خفیہ اداروں نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وفاقی د ارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں واقع دینی مدارس میں پڑھانے والے بیشتر معلم اور طلباءمقامی نہیں ہیں اور اس حوالے سے وزارت داخلہ کو بھی آگاہ کیا گیا ہے ۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے ہے۔ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کا تعلق بھی انہی علاقوں سے ہے اور ان سب طالب علموں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔



وزارت داخلہ کے ذرائع نے کو بتایا کہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں چار سو چوالیس ایسے مدارس ہیں۔رپورٹ کے مطابق ان مدارس میں سے اکثریت دیوبند فرقے سے تعلق رکھنے والوں کی ہے جس کی تعداد ڈھائی سو سے زائد ہے۔ تعداد کے حساب سے دیو بند مدارس کے بعد سب سے زیادہ بریلوی پھر اہل حدیث اور سب سے آخر میں شعیہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے مدرسے اور مساجد بنا رکھی ہیں۔



ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیمیں کے جن میں تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ لشکر جھنگوی، قاری نذیر گروپ اور غازی فورس شامل ہیں لوگوں کے دیوبند فرقے سے قریبی تعلق ہے اس رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر ایک مدرسے میں پچاس سے لے کر دو ہزار تک طالب علم زیر تعلیم ہیں جبکہ ان افراد کی رہائش اور کھانے پینے کے ذمہ داری بھی ان مدارس کی انتظامیہ پر ہے۔



رپورٹ کے مطابق اگرچہ ان مدارس میں پرھنے والے طلبائ کے بارے میں ایجنسیوں کو علم ہے کہ ان کا تعلق کس علاقے سے ہے لیکن ان طلبا کے خاندانوں کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ آیا ان کا تعلق کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ بھی رہا ہے کہ نہیں۔ذرائع کے مطابق اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مدارس کی آمدنی سے متعلق جب بھی متعلقہ افراد سے دریافت کیا گیا ہے تو انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پہلے وفاق المدارس سے اس ضمن میں این او سی لے کر آئیں تو پھر سرکاری اہلکاروں کو اس مدرسے کی آمدنی اور طالب علموں کے بارے میں معلومات دی جائیں گی۔کسی بھی پاکستانی پر ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں سفر کرنے یا رہائش رکھنے پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ جن علاقوں میں یہ مدارس موجود ہیں وہاں کی پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مدارس کا روزانہ کی بنیاد پر دورہ کریں اور اس ضمن میں رپورٹ تیارکر کے متعلقہ حکام کو بھجوائیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.