28 اکتوبر 2011
وقت اشاعت: 7:13
بنگلور بھارت کا ”خود کشی دارالحکومت“ ہے: رپورٹ
اسے معاشرتی بے حسی کہا جائے یا بے بسی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں خود کشی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی خود دکشیوں کے واقعات میں انتہائی تیزی آئی ہے۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بنگلور کو بھارت کا ”خود کشی دارالحکومت“ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بھارت میں خود کشی کرنے والوں میں 70 فیصد افراد کا تعلق بینگلور سے تھاجن کی تعداد 1778 تھی۔ جاپان میں خودکشی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جہاں گزشتہ سال خودکشی کرنے والوں کی تعداد تقریبا 32،845 تھی، یعنی تقریبا ہر 15 منٹ بعد ایک خود کشی۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوجیوں میں بھی خودکشی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ سال جتنے فوجی جنگ میں مارے گئے تقریبا اتنے ہی امریکی فوجیوں نے خودکشی کی تھی۔ امریکی فوج کی خودکشیوں کی روک تھام سے متعلق ٹاسک فورس کے گزشتہ سال ڈائریکٹر کرنل کرس فل برک کا کہنا تھا کہ خودکشی کرنے والے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے سبب فوج پر مسلسل پڑنے والا دبائو تھا۔
خودکشی کرنے والے افراد کی اکثریت نے اپنی جان دینے کے لیے آتشیں اسلحہ استعمال کیا۔ زہریلی ادویات اور دوسرے کیمکلز پی کر خودکشی کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 2010 میںپاکستان کے91 بندی خانوں میں1154 بچے بند تھے جن میں سے170 بچوں نے جیلوں میں خود کشی کر لی تھی۔ خود کشی کی بڑی وجہ معاشی اور ذہنی ڈپریشن، بیروزگار ی، غربت اور مایوسی کو قرار دیا جا رہا ہے۔