8 نومبر 2011
وقت اشاعت: 10:15
کیا ستم کہ ہم لوگ مرجائیں گے، جون ایلیاکی نویں برسی
بوڑھے قدموں سےچل کر میں بچپن کی طرف گیا۔انجام کی طرف جاتے ہوئے آغاز کیا۔میں نے راحت کو پکارا اوررنج کمایا۔ آرام کو آواز دی ،آلام میرے حصے میں آیا۔ یہ داستان ہے شاعر جون ایلیا کی۔ جن کوبچھڑے آج نو برس بیت گئے۔
جون ایلیا چودہ دسمبر انیس سو اکتیس کو اتر پردیش کی ریاست امروہا میں پیدا ہوئے۔ وہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ وہ معروف صحافی اور شاعر رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی، اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔
انیس سو ستاون میں پاکستان ہجرت کی۔جون ایلیا کو عبرانی، عربی اور فارسی سمیت پانچ زبانوں پر عبور تھا۔آٹھ سال کی عمر میں پہلا شعرلکھنے والے جون ایلیاکی پہلی کتاب ۔ شاید۔ساٹھ برس کی عمر میں منظر عام پر آئی۔ انہوں نے شاعری میں اپنی تہذیب و ثقافت کو سموتے ہوئے اپنے تصورات بیان کئے۔
یعنی کے نام سے ان کی دوسری کتاب سن دو ہزار تین اور تیسری کتاب گمان سن دو ہزار چار میں شائع ہوئی۔ جون ایلیا فلسفے، نفسیات اور روحانی علمیات کے دائرے میں موجِ بے خودی میں رواں رہتے تھے۔ ان کی شاعری، دل نشیں اور نثر توانا تھا، کبھی نہ ختم ہونے والی تخلیقی جستجو، ان کا فکری تنوع اور پھیلاؤ ، تجربہ پسندی اور اپنے کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ آج بھی پڑھنے والے کے لیے پرکشش ہے۔
جون ایلیاء نے آٹھ نومبر دو ہزار چار کو کراچی میں اس فانی دنیا سے کوچ کیا۔ بے دلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے کتنی د ِلکش ہے تو کتنا دِل جو ہوں میں کیا ستم کہ ہم لوگ مر جائیں گے۔