6 اگست 2014
وقت اشاعت: 14:37
مون سون کے ساتھ ہی تھر سے نقل مکانی کرنیوالوں کی واپسی شروع
تھر.....تھر کے صحرا میں مون سون کی آمد کے ساتھ ہی زندگی کی امید پیدا ہو گئی ہے، بارش کی چند بوندوں کے بعد ریتیلی دھرتی سے اٹھنے والی سوندھی خوشبو نے دیگر علاقوں میں منتقل کئے جانے والے لاکھوں مویشیوں کو بھی اپنی دھرتی کی جانب لوٹنے پہ مجبور کر دیا ہے ۔ مویشیوں کے گلے میں بندھی گھنٹی کی ٹن ٹن اب کسی خطرے کا اشارہ نہیں بلکہ اپنے علاقوں کو واپسی کی خوشی کا سندیس ہے۔ تھر کے صحرا میں مون سون کا موسم ان مال مویشیوں کے لئے زندگی کی نوید لیکر آتا ہے ۔تھرکی دھرتی اتنی زرخیز ہے کہ بارش کی بوند بوند کے بدلے ریت کا ذرہ ذرہ سبزہ اگلتا ہے جو ان مویشیوں کی خوراک بھی ہوتا ہے اور شاید زندہ رہنے کی امید بھی ۔سرکاری اعداو شمار کے مطابق تھر پارکر میں پائے جانے والے مویشیوں کی مجموعی تعدادتقریباً 80لاکھ ہے جن میں 22لاکھ گائے ہیں ۔ طویل خشک سالی کے نتیجے میں اس سال چارے کی کچھ ایسی قلت ہوئی کہ انہیں سندھ کے دیگر علاقوں میں منتقل کرنا پڑا مگر برکھا رت کے آتے ہی تھر کو جانے والے تمام راستوں پہ مویشیوں کے ریوڑ اور ان کے چرواہے کشاں کشاں جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ مون سون کے بادلوں نے تھر کے تپتے صحرا کا مزاج کیا بدلا، خوراک کی امید میں ہزاروں مویشیوں نے اپنے علاقوں کا رخ کر لیا ہے۔