9 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 14:19
اونٹ کے بجائے گائے ،بکرے قربان کئے جائیں:مفتی اعظم سعودی عرب
کراچی......سعودی عرب کے مفتی اعظم نے اس سال حج اور عیدالاضحی کے موقع پر ملک بھر میں اونٹ کی بجائے گائے اور بکرے کی قربانی کا فتویٰ دیا ہے۔ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے یہ فتویٰ ملک میں کرونا وائرس کے خدشے کے پیشِ نظر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کرام، سعودی شہری اور غیر ملکی عید الالضحیٰ پر اونٹ کی جگہ گائے اور بکرے کی قربانی کریں۔
سعودی عرب میں اس سال فروری میں ایک مرتبہ پھر جان لیوا کرونا وائرس نے سر اٹھا یا ، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو روکنے کے اقدامات کرنے کے لئے اپنی ٹیمیں سعودی عرب بھیجیں۔ سعودی عرب میں گزشتہ تین برس سے کرونا وائرس انسانی جانوں کا دشمن بنا ہوا ہے۔چند ماہ قبل یہ وائرس عارضی طور پر غائب ہوگیا تھا مگر رواں سال فروری میں اس نے پھر سر اٹھا یا تاہم اس سے متعددافراد متاثر ہوئے۔ 2012ء سے کرونا وائرس نے سعودی عرب میں 975افراد کو متاثر کیا جن میں سے 358افراد انتقال کرگئے۔
گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی مختلف ممالک کے حجاج کرام کیلئے کرونا وائرس کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اب تک مشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص سعودی عرب میں کرونا وائرس کے کئی کیس سامنے آئے ہیں جبکہ اسی سال جون میں جنوبی کوریا میں اس بیماری سے 150افراد متاثر ہوئے اور 20افراد اس بیماری کے ہاتھوں جان سے گئے۔
کرونا وائرس سے جان لیواتنفس کو متاثر کرنے والی بیماری جنم لیتی ہے جسے مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم کا نام دیا گیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے انٹرنیشنل فوڈ سیفٹی کے منیجر پیٹربین ایم بریک کا کہنا ہے کہ یہ وائرس زیادہ تر اونٹوں سے پھیلتا ہے۔ تاہم اگر کسی کو یہ وائرس لگ جائے تو یہ اس سے دوسرے افراد کو بھی لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وائرس کے حوالے سے ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کس چیز سے پھیلتا ہے تاہم اونٹ اس کی بڑی وجہ نظر آتا ہے۔
یہ وائرس ان افراد پر تیزی سے حملہ کرتا ہے جو بلڈ پریشر، دل، گردے اور دوسری بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وائرس کے نتیجے میں مریض کے اندر قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے اور اس کے پھیپھڑوں اور گردوں پر انتہائی منفی اثرات پڑتے ہیں۔
امریکی تحقیق کے مطابق مشرق وسطیٰ میں پھیلے کرونا وائرس کی وجہ سعودی عرب میں پائی جانے والی چمگادڑیں ہیں۔ اس وائرس سے سانس کی بیماری پھیل رہی ہے۔ ڈاکٹروں کی انٹرنیشنل ٹیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 100چمگادڑوں کا جائزہ لیاگیا جن میں اس وائرس کے اثرات پائے گئے۔ اس کے علاوہ اونٹ، بھیڑ، بکریوں اور گائے کے ٹیسٹ بھی لئے گئے۔
پاکستان سے پہلی حج فلائٹ سعودی عرب کی جانب پرواز کر چکی ہے تاہم وفاقی وزارت صحت کرونا وائرس کے باعث پھیلنے والے مرس یعنی مڈل ایسٹ ریسپیریٹری سنڈروم کے حوالے سے طبی ہدایات تاحال جاری نہیں کر سکی۔ ہر سال بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کے خطرے اور اس سے متاثرہ افراد کی تعدادمیں اضافے کے حوالے سے عازمین حج کو سفر سے قبل اس بیماری کے حوالے سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ اس بیماری سے حتی الامکان محفوظ رہ سکیں۔عازمین حج کو بتایا جاتا ہے کہ وہ سفر حج کے دوران وہاں موجود مویشیوں بالخصوص اونٹوں کو چھونے اور ان کے قریب جانے سے گریز کریں۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پہلے ہی پاکستان سے سعودی عرب جانیوالے مسافروں کیلئے سفری ہدایات جاری کی جاچکی ہیں کہ کرونا وائرس نے سعودی عرب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، پاکستانی مسافر سعودی عرب پہنچنے پر منہ پر ماسک کا استعمال کریں۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ لیٹر محکمہ صحت کو بھیجا گیا جس پر محکمے نے سرکلر جاری کیا تھاجس میں ہدایت کی گئی تھی کہ عوام الناس کو وائرس سے متعلق معلومات کیلئے آگہی کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
تحریر:شفیق احمد صدیقی
1994ء سے جنگ گروپ سے منسلک ہیں اورآج کل بطور سب ایڈیٹر آن لائن ایڈیشن دیکھ رہے ہیں۔