6 نومبر 2015
وقت اشاعت: 10:36
پاک افغان سرحدی علاقے پولیوکے لیے سنگین خطرہ
کراچی......افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے پولیو کی آماجگاہ بن گئے ہیں ۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران دنیا میں سب سے زیادہ پولیو کیسز یہیں رپورٹ ہوئے جبکہ آج بھی ہرروزافغانستان سے پاکستان آنے والے 300بچے انسداد پولیوکے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔
باعث تشویش امریہ ہے کہ جنوبی افغانستان اور بلوچستان میں پولیو ایک طرح کی ’ وبا‘ بناگئی ہے اور ہر محاذ پر پولیو کے خلاف جنگ لڑنے والے پاکستان کے لئے یہ صورتحال انتہائی سنگین اور یومیہ 300بچوں کا انسداد پولیو قطروں سے محروم رہ جانا۔۔ یقینا کسی بھیانک خطرے سے کم نہیں ۔
’ایمرجنسی آپریشن سینٹر‘بلوچستان کے سربراہ ڈاکٹر سید سیف الرحمن کا کہنا ہے کہ پولیو کے خلاف جاری جنگ کو جیتنے کے لئے سرحدی علاقوں میں بھرپور توجہ کی ضرورت ہے ۔ یہاں انسدادِ پولیو مہم کے لئے فوری اور مزید موثر حکمت عملی بنانا ہوگی۔
مؤثر حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے بہت سے اہم اقدامات فوری اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ان میں سرفہرست چمن میں پاک افغان سرحد پر قائم ’باب دوستی‘ پرتعینات ایف سی اہلکاروں کو بچوں کو ویکسینیشن فراہم کرنے کے لئے باقاعدہ ٹریننگ دینا اورپولیو کے قطروں سے انکار کرنے والے والدین کو بین الاقوامی مذہبی اسکالرز کے فتووٴں کے ذریعے قائل کرنا شامل ہے۔
اس حوالے سے گزشتہ روز چمن میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں سرحدی علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم کومزید موثرکرنے کی حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں ’ایمرجنسی آپریشن سینٹر‘بلوچستان کے وفد کے علاوہ افغان پولیو ٹیمز، کمشنر کوئٹہ قمبر دشتی، ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ خدائے داد، اسٹاف آفیسر ڈاکٹر آفتاب کاکٹر، افغان حکام ڈاکٹر سعادت اور ڈاکٹر محمد عیسیٰ اور عالمی ادارہ صحت و یونیسف کی ٹیموں نے شرکت کی۔
اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے ہر روز 14ہزارسے زائد افراد پاک افغان سرحد عبور کرتے ہیں جن میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 900 بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ موجودہ پولیو ٹیموں کی مدد سے روزانہ اوسطاً 600 بچوں کو پولیو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر روز 300 بچے پولیو قطروں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ای او سی کے وفد کی سربراہی ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کی جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت پبلک ہیلتھ کے عزاللہ کاکٹر کر رہے تھے۔ حکام نے باہمی تعاون کو بڑھانے اور پولیو ٹیموں کی تعداد میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا تاکہ ہر بچے کو انسداد پولیوکے قطرے پلانے کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا کہ جنوبی افغانستان اور بلوچستان میں پولیو کی وبا عام ہے اور یہی وہ علاقے ہیں جہاں دنیا بھرمیں گذشتہ چند سالوں میں سب سے زیادہ پولیو کیسز رپورٹ ہوئے۔
انسداد پولیو مہم میں تعاون اورمدد حاصل کرنے کے لئے پاک افغان وفود نے علیحدہ علیحدہ ایف سی بلوچستان کے سینئر حکام سے ملاقات بھی کی۔ ڈاکٹر سید سیف الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ملاقاتیں مثبت اورنتیجہ خیز رہیں۔ دونوں ملکوں کے حکام نے خطے سے پولیو کے خاتمے کا عزم کیا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چمن میں پاک افغان سرحد پر قائم ’باب دوستی‘ پر ایف سی اہلکار پولیو ٹیموں کی نگرانی اورمدد کریں گے۔ایف سی اہلکاروں کو سرحدی علاقوں میں بچوں کو ویکسی نیشن فراہم کرنے کے لئے باقاعدہ ٹریننگ دی جائے گی۔
ڈاکٹر سیف الرحمٰن نے بتایا کہ باب دوستی اور پاک افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں انسداد پولیو کوریج 100 فیصد ہے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ان علاقوں کے لئے مزید ٹیمیں بنائی جائیں گی جو پابندی سے دورے کریں گی۔
کوم نیٹ کے عبدالباسط نے اجلاس کو بتایا کہ ان علاقوں میں پولیو قطرے پلانے سے انکار کے 13000کیسز تھے۔ لیکن سوشل موبلائزر متعارف کرانے کے بعد اب ہر انسداد پولیو مہم میں 5000کیس ریکارڈ ہورہے ہیں جبکہ 4000کیسز کو کور کرلیا گیا ہے۔ ہر مہم میں پولیو قطرے پینے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ اسے قائم رکھنے کے لئے مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔