5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
کے ای ایس سی میں برطرفیاں جمہوری حکومت کیخلاف سازش ہیں،سندھ اسمبلی
جنگ نیوز -
کراچی … سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کے ای ایس سی سے ساڑھے چار ہزار ملازمین کی برطرفی کو تنقید کو نشانہ بناتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔حکومتی اراکین نے اس عمل کو جمہوری حکومت کیخلاف سازش قرار دیتے ہوئے کے ایس ایس سی کے برطرف ملازمین کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔اسمبلی کا اجلاس اسپیکر نثار کھوڑوکی صدارت میں ہوا۔نکتہ اعتراض پر صوبائی وزیر اور ایم کیو ایم کے رہنما سردار احمد نے کہا کہ کے ای ایس سی کے ساڑھے چار ہزار ملازمین کو برطرف کرنا انتہائی غلط اقدام ہے۔ حکومت ان کی بحالی کیلئے اقدامات کرے۔حکومتی موقف اختیار کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کل ایم ڈی کے ای ایس سی اور وفاقی وزیر پانی وبجلی سے بات کی ہے ۔ایاز سومرو کا کہناتھاکہ وہ اس عمل کو جمہوری حکومت کیخلاف سازش سمجھتے ہیں،وہ کسی کو بے روزگار نہیں ہونے دیں گے ۔صوبائی وزیر بلدیات آغا سراج درانی نے بھی کے ای ایس سی کے ملزمین کی برطرفی کے عمل کی مذمت کی اور کہا کہ صدر مملکت نے بھی ملازمین کی برطرفی کا نوٹس لیا ہے ،صوبائی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی روزگاردینا ہے بے روزگار کرنا نہیں ، نکالے گئے ملازمین کو بحال کرائیں گے ،صوبائی وزیر حاجی مظفر شجرہ نے کہا کہ اس عمل کو مجرمانہ عمل قراردے کر اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور کے ای ایس سی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔صوبائی وزیر امیر نواب نے ساڑھے چار ہزار ملازمین کی برطرفی کے عمل کو لیبر قوانین کی خلاف ورزی قراردیا اور کہا کہ وہ محکمہ کی جانب سے کے ای ایس سی کو نوٹس جاری کریں گے۔اجلاس کے دوران شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی ، شہید بے نظیر بھٹوآباد ترمیمی بل2011 اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔اس ترمیم کے تحت یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے کی معیاد غیر معینہ مدت کے بجائے چار سال کیلئے ہوگا۔اسمبلی اجلاس کے دوران اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بلدیات کو کراچی میں پانی کی کمی کا نوٹس لینے،اس سلسلے میں سفارشات پیش کرنے سے متعلق قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔ اسپیکر نے اجلاس پیر کی صبح تک کے لیے ملتوی کرلیا۔