5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
مصر،مظاہرے جاری، جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی پروازیں
جنگ نیوز -
قاہرہ…امریکا نے مصر میں حکومت مخالف مظاہروں کے چھے روز بعد ایک واضح بیان جاری کیا ہے اور صدر حسنی مبارک کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مصر میں آزادانہ انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے۔ دوسری جانب مصر میں حکومت مخالف مظاہرے چھٹے روز بھی جاری رہے۔ جبکہ سڑکوں پر فوج کی آمد کے بعد ملک کی فضاؤں پر بھی جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے پروازیں شروع کردی ہیں۔ مصر کی سڑکوں پر فوج بھیجے جانے کے بعد اب مصر کی فضاوں میں بھی جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی پروازیں شروع ہوگئی ہیں۔ فوج کی طرف سے کرفیو کے نفاذ کے باوجود مصری مظاہرین نے آج بھی قاہرہ کے التحریر چوک کو اپنے عزم کا گواہ بنایا۔ فوج اور سیکیورٹی فورسز مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے اور ربڑ کی گولیاں برسا رہی ہے اور مصری عوام اپنے مستقبل کا باب اپنے خون سے تحریر کر رہے ہیں۔ مصر کے صدر حسنی مبارک کی اقتدار پر گرفت مزید کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے سب سے بڑے اتحادی امریکا کی طرف سے ان کے اقدامات کو ناکافی قرار دے دیا گیا ہے۔ امریکی وزیرِخارجہ ہلیری کلنٹن نے مصر میں آزادانہ انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے۔ جبکہ مصری اپوزیشن نے محمد البرادعی کو حکومت سے مذاکرات کا اختیار سونپ دیا ہے۔ آج حسنی مبارک نے فوجی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا جہاں مصری سیاست کے چار بڑوں نے ملکی صورتِ حال کا جائزہ لیا۔ ان کے ساتھ نائب صدر عمر سلیمان، وزیرِ دفاع فیلڈ مارشل حسین طنطاوی اور آرمی چیف سمیع عنان موجود تھے۔ لیکن باہر قاہرہ کی سڑکوں پر دن بھرنو مبارک نو کے نعرے گونجتے رہے۔ چھ روز کے مظاہروں اور تھانوں کو نذرِ آتش کیے جانے بعد مصر کی بیش تر سڑکوں سے پولیس غائب ہے۔ سیکڑوں قیدی جیلیں توڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔ مصر کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کے انتہائی قیمتی نوادرات خطرے سے دوچار ہیں۔ نوجوان اپنی گلیوں میں راتوں کو خود پہرہ دے رہے ہیں اور صبح کا انتظار کر رہے ہیں۔