29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
وسیم احمد کو ہٹانے سے حکومت کی معذرت، صبر کا امتحان نہ لیں ،چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے سمیت کنٹریکٹ کے سینئرپولیس افسروں کی برطرفی سے متعلق اپنے حکم کی تعمیل کیلئے حکومت کو بدھ تک کی مزید مہلت دیدی ہے، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ حکم جاری کرسکتے ہیں،لیکن عدالت بہت ضبط اور تحمل کررہی ہے اور اس کا امتحان نہ لیا جائے۔ چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے حج اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ حج اسکینڈل کیس کی تحقیقات میں پیشرفت نہیں ہورہی، ایف آئی اے پر دباؤ ہے۔ ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ قانون کی پابندی کے باوجودگزشتہ دو برس میں448 افراد نے سرکاری خرچ پر حج کیاتھا ، کنٹریکٹ آفیسرز سے متعلق کیس میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایک فہرست پیش کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں تمام چودہ کنٹریکٹ آفیسرز کو ہٹادیا گیا ہے ، سندھ میں83 میں سے43 کو ہٹایاگیا ہے،12 کو دوبارہ ملازمت دی گئی اور28 کا جائزہ جاری ہے،عدالت نے بلوچستان میں جونیئرز کی ترقی سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں، عدالت کی ہدایت پر سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نے حکومت سے پوچھ کر بتایا کہ کچھ مشکلات کی وجہ سے ڈی جی ایف آئی اے کو فوری ہٹانا ممکن نہیں۔ سکریٹری داخلہ نے قومی سلامتی کیلئے وسیم احمد کی ضرورت سے متعلق خفیہ سمری پیش کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سمری مذاق بنے گی، اسے خفیہ ہی رکھ لیں، عدالت نے حج کیس کی تحقیقات ملٹری انٹیلی جنس سے کرانے کی ایک درخواست بھی آج مسترد کردی،مقدمہ کی مزید سماعت سولہ مارچ کو ہوگی۔