29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
لیڈی ہیلتھ ورکرز کا دھرنا، ٹریفک جام میں پھنسی حاملہ خاتون جاں بحق
جنگ نیوز -
اوباڑو … اوباڑو کے قریب سندھ پنجاب سرحد پر لیڈی ہیلتھ ورکروں کا مطالبات کی منظوری کے لئے دھرنا جاری ہے جس سے سندھ پنجاب اور بلوچستان کی ٹریفک معطل ہے اور مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،پولیس کا کہنا ہے ٹریفک جام میں حاملہ خاتون بروقت علاج نہ ملنے پر چل بسی، مظاہرین سے سختی سے نمٹا جائیگا۔آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکر کی جانب سے مستقل کئے جانے اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لئے اوباڑو کے قریب سندھ پنجاب سرحد کے قریب قومی شاہراہ پر رات دو بجے سے دھرنا جاری ہے۔ دھرنے کے باعث اس اہم شاہراہ پر بدترین ٹریفک جام ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک جام میں ڈہرکی سے رحیم یارخان لے جانے والی حاملہ خاتون بروقت علاج نہ ملنے کے باعث چل بسی پولیس ذرائع کے مطابق مظاہرین کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔پاکستان بھر سے آئی ہوئی ان ورکروں کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری کے لئے قومی شاہراہ کو بلاک کرنے کے علاوہ انکے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے اوروہ معصوم بچوں کے ساتھ رات سے پریشان ہیں اور اب تک کسی بھی حکومتی زمہ دار نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری مستقل کیا جائے ای پی آئی پاپولیشن اور ملیریا ڈیپارٹمنٹ کو زم کیا جائے نان ریزیڈنٹ کے الزام میں برطرف ورکروں کو بحال کیاجائے جن ورکروں کی دو سالوں سے تنخواہیں بند ہیں فوری جاری کی جائیں اور علاقے کے ایم پی ایز ایم این ایز اور وڈیروں سے نیشنل پروگرام کی گاڑیاں واپس کرائی جائیں اور لیڈی ہیلتھ ورکروں کے ڈیپوٹیشن کو ختم کیا جائے بصورت دیگر احتجاج جا رہی رہے گا۔ اس موقع پر ماروی میمن نے کہا کہ انہوں نے بہت کوشش کی کہ مسائیل پارلیمنٹ میں حل ہوں مگر ایسا نہیں ہورہا ہے اس کی وجہ سے آج خواتین کو قومی شاہراہ بلاک کرنی پڑی ہے اور وہ انکے مطالبات کی منظوری تک انکا ساتھ دیتی رہیں گی آج خواتین نے بہادری والا کام کیا ہے۔