29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
سیف سٹی،معاہدے کے شفاف ہونے پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس
جنگ نیوز -
اسلام آباد…سپریم کورٹ نے اسلام آباد اور پشاور کو سکیورٹی نقطہ نظر سے محفوظ بنانے کے معاہدوں کی منصوبہ بندی کمیشن سے تفصیلات طلب کرلی ہیں ۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے سیف سٹی پراجیکٹس کے خلاف شاہد اورکزئی کی درخواست کے مقدمہ کی سماعت کی ، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ان معاہدوں کو انجام دینے کے وقت شفاف طریقہ اختیار نہیں کیا گیا، پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین نے عدالت کو بتایا کہ سیف سٹی پراجیکٹس منصوبہ ابھی حتمی منظوری کے مرحلے میں ہے، وزارت داخلہ کے وکیل نے بتایا کہ اس منصوبہ کے لئے چین قرض دے رہا ہے، عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے منصوبہ کی لاگت 7124 ملین ڈالر ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ شہر، محفوظ بنانے چاہیئں لیکن معاہدہ کی شفاف ہونے پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، ایک سابق ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن نے سیف سٹی پراجیکٹس کی مخالفت بھی کی تھی ، بعد میں عدالت نے معاہدوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت چار ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔