29 مئی 2011
وقت اشاعت: 5:59
پاکستان میں انقلاب نہیں ،انتشار کا خطرہ ہے،رپورٹ
جنگ نیوز -
دوحہ…فارن ڈیسک… پاکستان میں انقلاب اور بغاوت نہیں انتشار پھیلنے کا خطرہ ہے۔ قطر کے نشریاتی ادارے’الجزیرہ‘ نے پاکستان کی مجموعی صورت حال پر ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں انقلاب کس کے خلاف آئے ؟یہ سچ ہے کہ پاکستان میں عوام اور ریاست میں دوری ہے لیکن وہاں ایسی کوئی حکومت یا طاقت نہیں ہے جس کے خلاف بغاوت ہو جائے۔پاکستان کے سیاستدانوں کو ناکام یا بدنام کہا جاسکتا ہے لیکن تجزیہ نگاروں کے نزدیک اہم سیاسی تبدیلیاں ہوتی بہت کم نظر آتی ہیں۔پاکستان کے بارے اکثر کہا جا تا ہے کہ وہ ناکام ریاست ہونے کے قریب ہے۔یہاں اقتصادی ، سماجی اور سیاسی بحرانوں کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی حکمرانی نام کی چیز نہیں۔مگر اس کو ناکام ریاست نہیں کہا جاسکتا۔یہ درست ہے کہ حالات پہلے سے ہی خراب ہیں۔ملک کو کئی محاذوں پر بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔بنیادی گھریلو اشیاء 18.88 فی صد افراط زر کا شکار ہیں۔ بے روزگاری15فی صد بڑھ گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی ملک ایک سیاسی بحران کی جانب گامزن ہے۔سیاسی میدان میں تازہ ترین بحران ریمنڈ ڈیوس کا تھا۔حزب اختلاف بھی خدمات کی فراہمی ، ریونیو جنریشن، اقتصادی پالیسی اور خارجہ پالیسی پر تنقید کرتی ہے۔خاص کر ڈرون حملوں کے استعمال کے خلاف پالسی پر اپوزیشن جماعتیں آواز بلند کرتی ہیں جوملک میں انتہا پسندوں کے حملوں کی وجہ ہیں۔ ایسے حالات عوامی بحث کے لیے سامنے نہیں آتے۔شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر کی حالیہ ہلاکتوں نے سماجی تانے بانے کو منتشر کیا ہے،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ان ہلاکتوں سے ملک میں سماجی نظام میں افراتفری پیدا ہورہی ہے جو لبرل فورسز کو ایک طرف لگانے کے مترادف ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے ڈیوس کے معاملے پر ٹائم میگزین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوامی عدم اطمینان کی چنگاری سے ایک بڑے پیمانے پر بغاوت جنم لے رہی ہے اورملک ایک انقلاب کے لئے "پوری طرح تیار" ہے " مصر سے بھی زیادہ شدت سے پاکستان میں انقلاب آئیگا۔خان نے ڈیوس کی رہائی کے خلاف ریلی نکالی مگرصرف چند سو لوگوں کو ہی جمع کرسکے۔کئی مذہبی جماعتوں نے بھی مظاہروں کا اعلان کیا ، لیکن عوام کو سڑکوں میں لانے اوراہم پیش رفت پیدا کرنے میں ناکام رہے۔پاکستان اورمصر یا تیونس میں کیا فرق ہے جہاں بغاوت کی وجوہ زیادہ افراط زر ، بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور عوام کی ریاست سے دوری جیسے ہی عوامل تھے۔مشرق وسطی میں بغاوت عرصہ دراز سے خاندانوں یا شخصی حکمرانی کی وجہ ہے۔ مصرمیں مظاہرین ایک نعرے پر متحد تھے کہ ہم بادشاہت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔پاکستان میں ہر دس سال بعد ایک فوجی آمر آجاتا ہے۔ وہ کسی شہنشاہ کا تخت نہیں الٹتا پھر بغاوت اور انقلاب کس کے خلاف لایا جائے ۔اور سوال یہ ہے کہ پاکستان اور عرب ممالک میں سیاسی فرق کیا ہے توعرب ریاستوں میں جہاں بغاوت اس وقت پیش ہے وہ پاکستان کے حالات سے بنیادی طور سے مختلف ہے ، طرابلس ، صنعا،مناما، قاہرہ ، تیونس اور دوسرے شہروں میں مظاہرین نے شخصی اور شہنشاہوں کے خلاف آواز بلند کی اور آزاد اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔ پاکستان میں بادشاہت نہیں اور انتخابات کا عمل پاکستان میں پہلے سے جاری ہے۔ کیاآصف علی زرداری کے خلاف بغاوت کی ضرورت ہے جب کہ سب کو علم ہے کہ 24 ماہ کے بعد ان کی صدارت کی مدت ختم ہوجائے گی۔ کس کے خلاف بغاوت کی جائے ۔ انتخابات اور اقتدار کی منتقلی جمہوری بنیادوں پر ہوتی تو کیا جمہوری نظام کے خلاف بغاوت کی جائے۔ پاکستان کا سیاسی نظام عرب دنیا سے مختلف ہے۔ پاکستان کا سیاسی نظام ظالم نہیں ہے اور یہاں حکومت کے خلاف اپنے خیالات کے اظہار کی مکمل آزادی ہے۔عرب دنیا کے برعکس ذرائع ابلاغ آزاد ہے۔اس کے علاوہ پاکستان میں حکومتوں کو تبدیل کرنے کے لیے انتخابات کا ایک فریم ورک موجود ہے۔ عرب دنیا کے برعکس پاکستان میں کئی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہیں۔ جن کی نمائندگی ملک بھر کے تمام گروہوں سے ہے اور وہ کسی نہ کسی شکل میں قومی دھارے میں بھی شامل ہیں ۔ تو کیا تمام سیاسی ، نظریاتی اور نسلی گروہوں کے خلاف بغاوت کی جائے ۔پاکستان میں انقلاب یا بغاوت کی بجائے انتشار کا خطرہ ہے۔