7 جولائی 2011
وقت اشاعت: 11:48
کراچی:فائرنگ سے5سالہ بچی جاں بحق،ہلاکتوں کی تعداد42ہوگئی
جنگ نیوز -
کراچی…افضل ندیم ڈوگر…کراچی کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اورنگی ٹاوٴن کے بعد بلدیہ ٹاون میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔ آج تازہ واقعات میں پانچ سالہ معصوم بچیبھی ہلاک جبکہ خاتون اور بچے سمیت دس افراد زخمی ہوگئے۔ کراچی میں تین روز سے بدامنی میں ہلاکتوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے۔کراچی کے علاقے اورنگی ٹاوٴن، حسن اسکوائر اور شیر شاہ میں منگل کو ایک ہی وقت میں اچانک فائرنگ کا اچانک سلسلہ شروع ہوا تھا۔ حسن اسکوائر اور شیرشاہ میں تو صورتحال پر قابو پالیا گیا تھا تاہم اورنگی ٹاوٴن اور قصبہ کالونی میں فائرنگ کا سلسلہ خونی لڑائی میں بدل گیا۔ دو گروپوں میں مورچہ بند فائرنگ، گھروں پر حملوں اور جلاوٴ گھیراوٴ کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ تازہ واقعات میں کٹی پہاڑی کے قریب فائرنگ سے 25 سالہ ذوہیب علی اور قصبہ کالونی میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ ایک خاتون اور بچے سمیت سات افراد زخمی ہوئے۔ بدامنی کی اس لہر میں اس علاقے میں اب تک درجن سے زائد افراد ہلاک جبکہ خواتین اور بچوں سمیت تین درجن سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ اورنگی ٹاوٴن، علی گڑہ کالونی، قصبہ کالونی، بخاری کالونی، مسلم آباد کٹی پہاڑی اور آس پاس کی اس آبادی میں تین دن سے زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ متعدد گھروں کو نذر آتش کیا جاچکا ہے اور شہریوں کی املاک تباہ ہوچکی ہیں۔ دو گروپوں کے مابین لڑائی بلدیہ ٹاوٴن، رشید آباد اور کئی دیگر علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ گذشتہ رات بھر بلدیہ ٹاوٴن نمبر4،5،6 میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ گھروں اور سرکاری اور نجی املاک پر دستی بموں سے حملے بھی کئے جارہے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کے گشت کے باوجود مسلح گروپوں کے مابین آج دوپہر پھر فائرنگ شروع کردی گئی۔ علاقے میں کاروبار اور ٹرانسپورٹ متاثر ہوئی ہے۔ جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد متاثرہ علاقوں سے نکل مکانی کرنے پر مجبور ہے۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی ٹارگٹ کلنگ اور فائرنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ ملیر کے علاقے میمن گوٹھ میں زاہد علی کو گھر سے بلوا کر فائرنگ سے ہلاک کیا گیا۔ گذشتہ رات گارڈن، گلستان جوہر، سرجانی ٹاوٴن، شاہ فیصل کالونی سمیت مختلف علاقوں میں فائرنگ سے ہلاکتوں اور شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات کے بعد سے کشیدگی ہے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہونے کے باوجود بدامنی کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی جارہی۔