15 جولائی 2011
وقت اشاعت: 13:3
عطاآباد:اسپل وے کے طور پر استعمال ہونیوالا پہاڑ کھوکھلا ہوگیا
جنگ نیوز -
ہنزہ...سانحہ عطاء آباد کے بعد اسپیل وے کا پہاڑ خطرناک حد تک کھوکھلا ہوگیا۔انتظامیہ نے اس پاس قائم عارضی دکانیں،ریسٹورنٹ، ہوٹلز کیبنز کو آج شام تک خالی کرنے کا حکم دے دیاگیا ہے۔ جنوری 2010 کے سانحہ عطاء آباد کے نتیجے میں دریائے ہنزہ کا بہاوٴ رک جانے کے ساتھ ساتھ دائیں جانب کے پہاڑ پر دباوٴ آنے سے اس میں دراڑیں پڑگئی تھیں۔ یہ دراڑئیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں اور اب تک ڈیڑھ میٹر تک کھل چکی ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ مومن جان نے جیونیوز کو بتایا کہ جغفرافک سروے آف پاکستان کے ماہرین فوری طورپر عطاء آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے عطاء آباد جھیل کا جائزہ لینے کے بعد اسپیل وے کے دائیں جانب عطاء آباد جھیل سے متصل پہاڑ کے دوکلومیٹر حصے کو انتہائی خطرناک قراردیا ہے اور بتایا ہے کہ اندرونی طورپر ہونے والے دھماکوں کی شدت بڑھنے کی صورت میں یہ پہاڑ گرسکتاہے جس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوسکتاہے۔اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ کے مطابق اسی خطرہ کو مدنظررکھتے ہوئے اسپیل وے سے ملحقہ علاقے میں قائم تمام کاروباری مراکز ،عارضی دکانیں،ریسٹورنٹ آج سے خالی کرائے جارہے ہیں۔اور اگرکسی نے اس میں مداخلت یا مزاحمت کی تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی دوسری جانب متاثرین کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کے احکامات سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہوگیاہے۔