21 جولائی 2011
وقت اشاعت: 8:44
دنیا بھر میں 2010میں پولیو کے ایک ہزار کیسزرپورٹ ہوئے
جنگ نیوز -
کراچی .. .. . . .رفیق مانگٹ… گزشتہ برس دنیا بھر میں ایک ہزار پولیو کے کیسز سامنے آئے۔دنیا بھر سے 2012 کے آخر تک پولیو کے خاتمے کے اہداف پورے نظر نہیں آتے اور اس بیماری کے خاتمے کی امید سنگین شکوک کا شکار ہوگئی۔پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پولیو کا خاتمہ سب سے آخر پر ہو گا۔برطانوی اخبار’گارجین‘ کے مطابقمانیٹرنگ کمیٹی نے انتباہ جاری کیا ہے کہ پاکستان ان چار ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کے وائرسز موجود ہیں۔پاکستان میں ایسے علاقوں میں پولیو کے کیسز سامنے آرہے ہیں جہاں پولیو کو مکمل طور پر ختم کیا جاچکا تھا ۔ عالمی سطح پر Global Polio Eradication Initiative کے سربراہ سر لائم ڈونلڈسن کا کہنا ہے کہ دنیا میں2012تک پولیو کے خاتمے کے اہداف حاصل ہوتے نظر نہیں آتے۔2010کے آخر پر پولیو کے کیسز ان 14ممالک میں دوبارہ سامنے آگئے جہاں پر پولیو کے خاتمے کی تصدیق کی جاچکی تھی۔سب سے زیادہ تشیو یش ناک صورت حال چاڈ اور کانگو کی ہے جہاں ہر سال59 اور80پولیو کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔پاکستان،بھارت،نائجیریا اور افغانستان میں پولیو ابھی بھی ایک خطرناک اور مہلک بیماری ہے۔ پاکستان میں ویکسی نینش کی فراہمی کے باوجود پولیو کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ملک کی مرکزی وزارت صحت مقامی سطح پر کنٹرول میں کوئی مدد نہیں کرتی جس سے تنازعات اور دیگر مسائل کی وجہ سے پولیو کے کیسز میں کمی نہیں ہو رہی۔پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پولیو کا خاتمہ سب سے آخر پر ہو گا۔جس سے عالمی سطح اور ہمسایہ ممالک میں پولیو کے خاتمے کی مہم کو خطرہ در پیش ہے۔پاکستان کو اس کے خاتمے کے لیے سخت محنت کے ساتھ ہنگامی ایکشن پلان کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جو ان چیلنجوں سے نمٹ سکے۔برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق بھارت کی کوششیں قابل تعریف ہیں اور گزشتہ چھ ماہ میں پولیو کا صرف ایک کیس سامنے آیا ہے۔ گزشتہ برس دنیا بھر میں ایک ہزار پولیو کے کیسز سامنے آئے۔