22 جولائی 2011
وقت اشاعت: 17:57
کراچی میں بدامنی:ملیر،کھوکھراپار،لانڈھی میں فائرنگ،10ہلاک،16زخمی
جنگ نیوز -
کراچی.. . . . .. . .افضل ندیم ڈوگر…کراچی میں چار روز کے امن کے بعد ملیر اور لانڈھی میں دو گروپوں کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں 10افراد ہلاک اور 16زخمی ہوگئے۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر علاقے میں رینجرز تعینات کردی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ملیر کے مختلف علاقوں میں آج صبح سویرے ایک گروپ کے افراد نے جانے کی کوشش کی اس دوران علاقے میں شدید فائرنگ کے سلسلہ شروع ہوگیا۔ دو طرفہ فائرنگ ملیر، ناد علی، جناح اسکوائر، کھوکھراپار، کے ڈی اے آفس، ڈاکخانہ، لیاقت مارکیٹ، عمار یاسر سوسائٹی، جعفرطیار سوسائٹی اور دیگر آبادی میں بھی کئی گھنٹے تک جاری رہی۔ ملیر کے مختلف مقامات سے آخری اطلاعات تک چھ افراد کی لاشیں اور 12 افراد کو زخمی حالت میں جناح اسپتال لایا گیا۔ اس علاقے سے ایک نوجوان جمشید اقبال کی لاش عباسی شہید اسپتال پہنچائی گئی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دو افراد مرتضیٰ اور ندیم کی لاشیں سندھ گورنمنٹ اسپتال ملیر پہنچائی گئی تھیں جنہیں لواحقین پولیس کی کارروائی کے بغیر گھروں کو لے گئے۔ لانڈھی 89 کے علاقے محمد نگر میں بھی صبح سویرے شدید فائرنگ کی گئی۔ جس سے ہلاک ہونے والے ایک شخص اکرام کی لاش اور دو زخمیوں کو جناح اسپتال لایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں ایک گلی میں دستی بم سے حملہ بھی کیا گیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کے مطابق ملیر میں ان کے 8 کارکن مسلح حملوں میں ہلاک ہوئے جبکہ مہاجر قومی مومنٹ کے ترجمان کے خالد نقشبندی کے مطابق 9 سال کی بے دخلی کے بعد آج صبح ملیر میں اپنے گھروں کو جانے والے ان کے 4 کارکنوں کو فائرنگ سے ہلا ک کردیا گیا۔ ملیر میں شدید فائرنگ سے کئی کلومیٹر کی آبادی میں کشیدگی پھیل گئی اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔ مورچہ بند فائرنگ سے ملیر کے کئی علاقے کئی گھنٹوں تک میدان جنگ بنے رہے۔ پاکستان رینجرز کے ترجمان میجر بلال فاروق کے مطابق صوبائی حکومت کی ہدایت پر ملیر کے متاثرہ علاقوں میں امن کے قیام کے لئے رینجرز کی بھاری نفری پہنچ گئی ہے۔ علاقے میں پولیس بھی موجود ہے۔