22 جولائی 2011
وقت اشاعت: 18:31
کراچی: ملیر لانڈھی میں فائرنگ، 13افراد ہلاک، کشیدگی برقرار
جنگ نیوز -
کراچی...کراچی میں امن بحال ہوئے چار ہی روز ہوئے تھے کہ آج ایک بار پھر اس کے متعدد علاقے میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگے۔کشیدگی کا مرکز ملیر اور لانڈھی کے علاقے تھے جہاں مختلف گروپوں میں فائرنگ کے نتیجے میں 13افراد ہلاک ہوگئے۔ کشیدگی سے متاثرہ علاقوں میں رینجرز کے آنے کے بعد صورتِ حال بہتر ہوئی جبکہ ملیر کالا بورڈ پر متحدہ قومی موومنٹ کے دو کارکنوں کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔پولیس کے مطابق ملیر کے مختلف علاقوں میں آج صبح سویرے ایک گروپ کے مسلح افراد نے جانے کی کوشش کی۔ اس دوران علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دو طرفہ فائرنگ ملیر کے مختلف علاقوں ناد علی، جناح اسکوائر، کھوکھراپار، کے ڈی اے آفس، ڈاکخانہ، لیاقت مارکیٹ، عمار یاسر سوسائٹی، جعفرطیار سوسائٹی اور دیگر میں ہوئی۔ ہلاک ہونیوالے 10 افراد کی لاشیں جناح اسپتال، دو کی سنددھ گورنمنٹ اسپتال ملیر اور ایک کی لاش عباسی شہید اسپتال لائی گئی، جناح اسپتال میں سولہ افراد کو زخمی حالت میں بھی لایا گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دو افراد مرتضیٰ اور ندیم کی لاشیں سندھ گورنمنٹ اسپتال ملیر پہنچائی گئیں جنھیں لواحقین پولیس کی کارروائی کے بغیر گھروں کو لے گئے۔ مورچہ بند فائرنگ سے میدان جنگ بنے علاقے ملیر میں پاکستان رینجرز کی بھاری نفری پہنچنے پر صورتحال میں بہتری آگئی، علاقے میں پولیس بھی گشت کر رہی ہے۔ لانڈھی 89 کے علاقے محمد نگر میں بھی شدید فائرنگ کی گئی جس سے ہلاک ہونیوالے ایک نوجوان اکرام کی لاش اور دو زخمیوں کو جناح اسپتال لایا گیا۔ اس علاقے میں بس اسٹاپ اور ایک گلی میں دستی بموں سے بھی حملے کیے گئے۔ دوپہر کے بعد لانڈھی سے قائد آباد اور حسینی چوک کے راستے ایک مسلح گروپ نے شیرپاوٴ کالونی کی طرف جانے کی کوشش کی جس پر وہاں بھی دوگروپوں میں شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ لانڈھی 89 پر فائرنگ سے مزید ایک شخص ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے مطابق ملیر میں متحدہ کے 8 کارکن مسلح حملوں میں ہلاک ہوئے۔ ان میں سے مرتضیٰ اور اکبر کی نمازِ جنازہ آج ادا کردی گئی جبکہ ندیم، اکرام، اکرم اور جمشید کی نمازِ جنازہ کل ادا کی جائیگی۔ ادھر مہاجر قومی مومنٹ کے ترجمان خالد نقشبندی کے مطابق 9سال کی بے دخلی کے بعد آج صبح ملیر میں اپنے گھروں کو جانے والے ان کے 4 کارکنوں کو فائرنگ سے ہلا ک کردیا گیا جن میں نبی خان اور محمد شفیق شامل ہیں۔ جبکہ ماڈل کالونی میں اس کے دو کارکنوں کے گھر نذرِآتش کیے گئے۔