1 اگست 2011
وقت اشاعت: 9:48
سیلاب کو ایک سال،بے گھر افراد تا حال خیمہ بستیوں میں مقیم
جنگ نیوز -
سوات…وادی سوات میں گزشتہ سال آنے والے تباکن سیلاب نے انفرا سٹرکچر کو بری طرح متا ثر کیا تھا۔بالائی علاقوں میں ایک سال بعد بھی بجلی اور انفراسٹرکچر بحال نہ ہوسکا۔ مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ سال آنے والا سیلاب تاریخ کا بد ترین سیلاب ثابت ہوا تھا جس میں سینکڑوں مکانات ،ہوٹلز، رابطہ پل جبکہ 60کلومیٹر سے زیادہ رابطہ سڑکیں تبا ہوگئے تھے۔اس کے علاوہ دریائے سوات کے کنارے ہزاروں ایکڑ پر محیط فصلیں اور باغات بھی تباہ ہو گئے تھے۔ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی سوات کے علاقے مرغزار ٹاون کے رہائشی متاثرین حکومتی امداد کے منتظر ہے۔ان متاثرین کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ متعد بار حکومتی شخصیات نے امداد کے وعدے ضرور کئے لیکن مدد نہ کی۔سیلاب کے بعد پاک فوج ،پراونشل ڈیزاسٹری مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی حکومت نے بحالی کاکام شروع کیا تھا۔اورضلع کے بیشتر علاقوں میں رابطہ پل اور سڑکیں بحال کئے گئے تاہم صوبائی حکومت کو بیرونی اور امدنی طور پر جو امداد ی رقم موصول ہوئی اس لحاظ سے امدادی کام نہ ہوسکیں۔ DCOسوات کامران رحمان کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران حکومت نے متاثرین کی بہت مدد کی ہیں۔ سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان وادی سوات کے بالائی علاقوں مدین ، بحرین اور کالام میں ہوا تھا جہاں آج بھی انفراسٹرکچر کی تباہی نظر آتی ہے۔سوات کے متاثرین سیلاب نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انفرا اسٹرکچر کی بحالی اور متاثرین کی امداد کیلئے ٹھوس اور موئثر اقدامات اٹھائے جائیں۔