11 اگست 2011
وقت اشاعت: 12:10
پشاور حملہ ،پاکستان میں تیسرا خاتون خودکش دھماکا
جنگ نیوز -
کراچی…رفیق مانگٹ...آج پشاور میں ہونے والاپاکستان کی تاریخ کا تیسرا خود کش دھماکا جسے خاتون حملہ آور نے کیا۔آج جمعرات کو پشاور میں دو گھنٹوں میں دو بم دھماکے ہوئے جس میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلا ک ہوئے اور 22زخمی ہوئے۔پولیس کے مطابق دوسرا دھماکا خاتون خود کش حملہ آور نے کیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں خاتون حملہ آور کی طرف سے یہ تیسرا خود کش دھماکا ہے۔پشاور میں خو دکش حملہ آور خاتون کی عمر17یا 18برس تھی،جس نے 20میٹر کی دوری پر پولیس چیک پوسٹ پر ہینڈ گرینیڈ پھینکے اس کے بعد اپنے آپ کو اڑا لیا۔ پاکستان کی تاریخ میں خاتون حملہ آور کی طرف سے کیا جانے والا25دسمبر2010میں باجوڑ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر خار میں عالمی ادارہ خوراک کے دفتر کے باہر لیویز چیک پوسٹ پر پہلاخود کش حملہ تھاجس میں 45افراد جاں بحق اور 72زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق تقریباً 24سالہ خاتون حملہ آور نے پہلے ہینڈ گرنیڈ پھینکے اور پھرخود کو دھماکے سے اْڑا لیا۔ دوسرا خودکش دھما کا جسے خاتون حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑایا وہ 25جون2011 میں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں پولیس تھانے ہونے والا خودکش حملہ تھا جس میں مقامی طالبان عسکریت پسندوں نے پہلی مرتبہ اپنی کسی کارروائی میں خاتون خود کش بمبار کو استعمال کیا۔امریکی نشریاتی ادارے سے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے تصدیق کی تھی کہ کلاچی تھانے پر حملہ کرنے والے خود کش بمبار میاں بیوی تھے اس حملے سے ایک ہفتہ قبل ضلع دیر میں آٹھ سالہ لڑکی کو کو حراست میں لیا گیاتھا جو خودکش جیکٹ پہنے پولیس چوکی پر حملہ کرنے والی تھی۔دسمبر 2007میں ایک خود کش حملہ آور خاتون نے پشاور چھاوٴنی میں سڑک کنارے فوجی چیک پوسٹ کے قریب اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا تھا،تاہم بعد میں حکام نے کہا کہ وہ خاتون حملہ آور نہیں بلکہ دھماکا خیز مواد لے کر جارہی تھی جس کو کسی نے ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا۔