تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
11 اگست 2011
وقت اشاعت: 14:14

ہنزہ نگر میں وزیراعلیٰ کی آمد پرمتاثرین عطاآباد کا احتجاج، ایک شہری ہلاک

جنگ نیوز -


ہنزہ . . . . . ہنزہ نگر میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان مہدی شاہ کی نگر میں آمد کے موقع پر متاثرین عطاء آباد جھیل کے مظاہرہ کرنے پر پولیس نے فائرنگ کردی، جس سے ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے، بعد میں مشتعل مظاہرین نے علی آباد تھانے پر دھاوا بول کر پولیس موبائل سمیت 4 گاڑیوں ، تھانہ علی آباد اور ڈپٹی کمشنر ہاوٴس کو آگ لگادی۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان مہدی شاہ نگر کے دورے پر آئے اور وہ ساس ویلی میں موجود تھے کہ اس دوران ہنزہ کے علاقے علی آباد میں متاثرین عطاء آباد جھیل نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دے کر شاہراہ قراقرم کو ٹریفک کے لئے بند کردیا۔مظاہرین جھیل سے متاثرہ خاندانوں کو حکومت کی جانب سے معاوضوں کی ادائیگی میں تاخیر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران مظاہرین کو پولیس نے سڑک سے ہٹانے کی کوشش کی تو مظاہرین کی پولیس کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے تصادم کی صورت اختیار کرگئی۔پولیس نے مظاہرین کے پتھراوٴ کا جواب لاٹھی چارج اور فائرنگ کرکے دیا،صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب پولیس کی فائرنگ سے احتجاجی مظاہرے میں شریک آئین آباد کا شیراللہ نامی ایک شخص جاں بحق اور5 افراد شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے تھانہ علی آباد کو آگ لگادی جبکہ تھانے کے باہر کھڑی ایک پولیس موبائل اور ایس ایچ او کی گاڑی سمیت 4 گاڑیوں کو آگ لگادی۔ بعد ازاں مظاہرین کے ایک گروپ نے ڈپٹی کمشنر ہاوٴس کو بھی جلادیا اور قریب ہی واقع تحصیل آفس میں بھی توڑ پھوڑ کرکے ریکارڈ کو تباہ کردیا۔ احتجاج کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے دوسرے علاقوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔گوجال کے تحصیل ہیڈ کوارٹر گلمت میں بھی مشتعل مظاہرین نے تھانے کو آگ لگادی ، پاک چین تجارتی مرکز سوست اور گلگت میں بھی پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شخص کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ علی آباد میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے جس پر قابو پانے کے لئے انتظامیہ اور کہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.